ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو یہ چاہا کرتا ہوں کہ جس وقت کوئی آئے اسی وقت اس کا کام کر کے اس کو فارغ کر دوں ایک صاحب دہلی سے آئے ہوئے ہیں عشاء کے وقت وہ مجھ سے ملے میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی لمبی چوڑی بات ہے تو صبح پر رکھئے اور اگر مختصر ہے تو ابھی ختم کر لیجئے انہوں نے کہا کہ مختصر ہے میں نے اس وقت سن کر جواب دے دیا یہ صاحب بیان القرآن کی تسہیل پر تقریظ لکھنا چاہتے تھے ( دہلی میں مطبع مجتبائی والوں نے ایک مولوی صاحب سے تفسیر بیان القرآن کی تسہیل کرائی ہے سمجھ میں نہیں آیا کہ الفاظ کی تو تسہیل ہو سکتی ہے مگر جو مضمون علمی ہیں ان کو سہل کرنے کی کیا صورت ہے دیکھئے اگر اقلیدس کو کوئی اردو میں لکھے تو کیا اس کی شکلوں کو بھی جو کہ اثبات ہے خاص دعوؤں کا اس معنی کو سہل کر سکتا ہے کہ ہر شخص سمجھ لیا کرے ) میں نے ان صاحب سے کہا کہ اس کا جو مقدمہ لکھا گیا ہے جس میں آپ کہتے ہیں کہ سب التزامات و رعایات ظاہر کر دی گئی ہیں اس مقدمہ کو میرے پاس بھیج دو اور اس کے ہر نمبر کے ساتھ دو دو تین تین مثالیں بھی کہ مثلا فلاں مقام کی تسہیل میں یہ رعایتیں کی گئیں ہیں ان کو دیکھ کر خاص ان مقامات پر تقریظ لکھ دوں گا اور آپ کی رعایت سے اتنا اور لکھ دوں گا کہ امید ہے کہ اور مقامات کی تسہیل بھی ایسی ہو گی وجہ اس تقیید کی یہ ہے کہ تقریظ کی حقیقت ہے شہادت اور بلا مشاہدہ کے شرعا شہادت جائز نہیں یہ بڑا ظلم ہے کہ کسی خاص مقام کو دیکھ کر کل کتاب کی تقریظ لکھ دیتے ہیں میں تو یہ کرتا ہوں کہ ان مقامات کی تعیین لکھ دیتا ہوں کہ فلاں مقام سے فلاں مقام تک دیکھا ایسا پایا پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کر سکتا نہ اعتراض کر سکتا ہے کہ آپ نے اس پر تقریظ لکھی ہے اور اس میں فلاں مضمون محدوش ہے کیونکہ ہم نے اپنے دیکھے ہوئے پر تقریظ لکھی ہے اس کے بعد اگر کوئی اعتراض کرے تو جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بقیہ مقامات کسی کی نسبت امید کا لفظ تھا مگر امید غلط نکلی مزاحا فرمایا کہ امید تھی مگر بچہ نہیں ہوا ان احتیاطوں کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہاں کا نام رکھا ہے نرالا چنانچہ کہتے ہیں کہ بھائی وہاں کا تو دربار ہی نرالا ہے ۔
