ایک دیہاتی شخص نے آ کر تعویذ مانگا فرمایا کہ صبح کے وقت تعویذ دینے کا معمول نہیں ہے بعد نماز ظہر تعویذ دیتا ہوں اس وقت آ جانا میں ان شاء اللہ تعویذ لکھ دوں گا اس سلسلہ میں فرمایا کہ میں جو تعویذ دیتا ہوں اس کی حقیقت یہ ہے کہ وقت پر مناسب اسی حالت کے جو آیت یا حدیث یاد آ جاتی ہے وہ لکھ دیتا ہوں باقی مجھے تعویذ گنڈوں سے قطعا مناسبت نہیں مگر حضرت حاجی صاحب نے فرما دیا تھا کہ اگر کوئی آیا کرے تو اللہ کا نام لکھ کر دے دیا کرنا اور میری ناواقفی کے عذر پر یہ بھی فرمایا کہ جو سمجھ میں آ جائے لکھ دیا کرو اس لئے میں لکھ دیتا ہوں اور بڑا تعویذ تو بزرگوں کا دعاء ہوتی ہے ۔ حضرت حاجی صاحب نے حکایت فرمائی تھی حضرت سید صاحب ہر تعویذ میں مرض کے لئے صرف یہ لکھا کرتے تھے خداوند تعالی اگر منظور داری حاجتش رابری ایک مرتبہ حضرت گنگوہی کے پاس ایک شخص نے آ کر غالبا یہ کہا کہ حضرت میرا نکاح نہیں ہوتا آپ نے تعویذ لکھ کر دیا اس میں یہ لکھا کہ اے اللہ میں کچھ نہیں جانتا اور یہ مانتا نہیں یہ تیرا غلام تو جانے اور تیرا کام بس نکاح ہو گیا ۔
9 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
