ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کی حالت روز بروز ابتر ہوتی چلی جاتی ہے ہر وقت دل کڑھتا ہے بڑی خرابی پیدا ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست خیال کر بیٹھے ہیں اگر حق کا اتباع کریں تو انشاء اللہ چند روز میں کایا پلٹ ہو جائے مگر سنتا کون ہے معاملہ بالکل اس کا مصداق ہو رہا ہے ۔
کون سنتا ہے کہانی میری اور پھر وہ بھی زبانی میری
کوٹ پتلون والوں کی سننے ہیں ڈھلیے کرتے خلخلہ پاجامہ والوں کی کیا سنیں اور مجھ میں ذرا کہہ دینے کا مرض ہے تو میری شکایت ہوتی ہے میں اکثر یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
دوست کرتے ہیں شکایت غیر کرتے ہیں گلہ کیا قیامت ہے مجھی کو سب برا کہنے کو ہیں
اور کبھی یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
خود گلہ کرتا ہوں اپنا تو نہ سن غیروں کی بات ہیں یہی کہنے کہ وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں ۔
اور کبھی یہ پڑھ دیتا ہوں ۔
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں ۔
