ملفوظ 366: بزرگوں کے یہاں لذائذ کا استعمال

بزرگوں کے یہاں لذائذ کا استعمال فرمایا کہ خاصان حق کی ہر بات میں حکمتیں ہوتی ہیں چنانچہ بزرگوں سے جو لذیذ کھانے ثابت ہیں ان میں مختلف حکمتیں ہوتی ہیں حسب استعداد ناظرین کے کبھی معلوم ہو جاتی ہیں ـ امام مستغفری نے ایک حکایت لکھی ہے کہ حضرت غوث اعظم کی خدمت میں ایک عورت اپنے لڑکے کو سپرد کر گئی کچھ روز کے بعد آ کر دیکھا کہ لڑکا نہایت لاغر اور دبلا ہو رہا ہے اس کو بے حد رنج ہوا وہ حضرت کی خدمت میں اس کے متعلق کچھ عرض کرنے آئی کیا دیکتی ہے کہ حضرت مرغ کا گوشت کھا رہے ہیں اور بھی جل بھن گئی ـ عرض کیا کہ حضرت آپ تو مرغ کھائیں اور میرے بچے کو سکھا دیا ـ آپ نے سن کر جو ہڈیاں کھائی ہوئی مرغ کی آپ کے سامنے رکھی تھیں ان کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ قم باذن اللہ وہ مرغ بن کر چل دیا ـ اس وقت حضرت نے اس عورت سے فرمایا کہ جس وقت تیرا بیٹا اس قابل ہو جائے گا اس کو بھی مرغ کھلایا جائے گا یہاں سائل کی استعداد ناقص تھی اس کے فہم کے موافق جواب دیا ـ دوسرا واقعہ حضرت غوث پاک کا اور ہے ایک سودا گر خلیفہ کے پاس بہت قیمتی کپڑا لایا جس کو خلیفہ نہ خرید سکا ـ یہ سودا گر خلیفہ وقت کے جواب دیدینے پر بہت مایوس ہوا اور خلیفہ وقت کے پاس سے حضرت کی زیارت کو خانقاہ میں حاضر ہوا ـ حضرت نے سودا گر سے آنے کی وجہ دریافت کی اس نے بیان کیا کہ اس لئے آیا تھا مگر ناکامیاب رہا ـ حضرت نے اسکی مایوسی دیکھ کر فرمایا کہ ہم خریدیں گے خادم کو حکم دیا کہ اس کی قیمت دیدی جائے اور اس میں ہمارا چوغہ تیار کراؤ وہ کپڑا حرید لیا گیا اس کی اطلاع خلیفہ وقت کو ہوئی اس کو سخت ناگوار ہوا کہ اس فقیر نے ہمیں بھی ذلیل کیا یہ سودا گر جہاں جائے گا کہتا پھریگا کہ خلیفہ وقت میرا کپڑا نہ خرید سکا اور ایک فقیر نے خرید لیا وزیر سے کہا کہ ان سے باز پرس کرو وزیر دانش مند تھا عرض کیا کہ جلدی نہ کیجئے ـ میں جا کر پہلے دیکھتا ہوں اس کے بعد دیکھا جائے گا وزیر خانقاہ میں حاضر ہوا دیکھا کہ حضرت اس کپڑے کا چوغہ پہنے بیٹھے ہیں وزیر کو بھی ناگوار ہوا کہ واقعی خلیفہ وقت کی بھی رعایت نہ کی اس میں خلیفہ وقت کی بڑی اہانت ہوئی مگر وزیر کی پھر جو نظر پڑی دیکھا کہ ایک دامن میں چوغہ کے ٹاٹ یا کمبل کا ٹکڑا بھی لگا ہوا ہے ـ وزیر نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ کیا فرمایا کہ قطع کرنے کے وقت کپڑے میں کمی رہ گئی تھی ـ میں نے کہا کہ ٹاٹ یا کمبل کا ٹکڑا لگا دو ـ مقصود تو کپڑا سے بدن ڈھانکنا ہے ـ وزیر نے جا کر خلیفہ وقت سے بیان کیا کہ یہ قصہ ہے جس شخص کی نظر میں وہ کپڑا اور ٹاٹ یا کمبل ایک ہے اس سے تعرض کرنا خدا کے قہر کو خریدنا ہے یہاں تاجر کو نفع پہنچانا ایک ظاہری حکمت تھی ـ تیسرا واقعہ حضرت غوث پاک ہی کا اور ہے ایک بادشاہ نے آپ کے پاس بہت قیمتی چینی آئینہ بطور ہدیہ کے بھیجا حضرت اسکو شانہ وغیرہ کرنے کے وقت دیکھا کرتے تھے ـ ایک روز خادم کو حکم دیا آئینہ لاؤ وہ لیکر چلا اتفاق سے ہاتھ سے چھوٹ گیا گر کر چور چور ہو گیا خادم نے آ کر عرض کیا “” از قضا آئینہ چینی شکست ،، آپ نے فی الفور جواب میں فرمایا “” خوب شد اسباب خود بینی شکست،، عجیب بات فرمائی یہاں اس کے ساتھ قلب کا تعلق نہ ہونا ظاہر فرمایا کہ یہ بھی ایک سبق ہے اسباب خود بینی شکست فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے پاس ایک گاؤں کا شخص ایک ٹوپی لایا جس پر گوٹ تو سرخ قند کی تھی اور باریک باریک گوٹے کی دھاری سلی ہوئی تھی آپ نے اپنی ٹوپی اتار کر وہ ٹوپی اوڑھ لی جب وہ چلا گیا تب کسی بچہ کو دیدی اور فرمایا کہ یہ خوش ہوگا میری ٹوپی اوڑھ لی ـ تو یہ حضرات اپنے ہی دل خوش کرنے کو نہیں پہنتے ـ بلکہ کبھی دوسروں کے دل خوش کرنے کو بھی پہنتے ہیں پس ان حضرات کو خوش پوشا کی اور خوش لباسی صرف اپنے ہی حظ کے لیے نہیں ہوتی حکمتیں ہوتی ہیں ـ چنانچہ ایک حکمت یہ ہے کہ ان کو یہاں کی نعمتوں میں مشاہدہ ہوتا ہے وہاں کی نعماء کا ـ ان کے استحضار کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں ـ حضرت حاجی صاحبؒ نے یہ نکتہ بیان فرمایا تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ منعم کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرتے ہیں عجب نہیں حضرت کا مقصود اصلی یہی مراقبہ ہو کیونکہ حضرت پر توحید کا بہت زیادہ غلبہ تھا وحدۃ الوجود تو حضرت کے سامنے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مشاہد ہے عینی ہے ایک مرتبہ سورۃ طہٰ سنتے رہے اس آیت پر پہنچ کر انہ لا الہ الاھو لہ الاسماء الحسنی حضرت پر اس کا غلبہ ہو گیا بطور تفسیر کے فرمایا کہ پہلے جملہ پر سوال وارد ہوا کہ جب سوا اللہ کے کوئی نہیں تو یہ حوادث کیا ہیں جواب ارشاد ہوا لہ الاسماء الحسنی یعنی اسی اسماء و صفات کے مظاہر ہیں اسی کو کسی نے کہا ہے ؎ ہرچہ بینم در جہاں غیر تو نیست ٭ یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو کسی کا قول ہے ؎ گلستان میں جا کر ہر اک گل کو دیکھا ٭ نہ تیری سی رنگت نہ تیری سی بو ہے ماموں صاحب نے جن پر توحید وجودی غالب تھی اس پر فرمایا کہ شاعر ظاہر بین تھا اگر عارف ہوتا تو یوں کہتا ؎ گلستان میں جا کر ہر ایک گل کو دیکھا ٭ تیری ہی سی رنگت تیری ہی سی بو ہے