ملفوظ 365:میر منصب علی کا شیعہ سے سنی ہونا

میر منصب علی کا شیعہ سے سنی ہونا ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کسی شخص پر حق کا واضح ہو جانا خدا ہی کے قبضہ میں ہے انسان کی قدرت سے باہر ہے فرمایا کہ ہاں حق تعالی حق کو قلب پر وارد اور واضح کر دیتے ہیں عادت اللہ یہی ہے پھر یہ شخص بہ تکلف رد کر دیتا ہے ـ
فرمایا کہ حق واضح ہونے پر یاد آیا کہ یہاں ایک شخص میر منصب علی تھے ان کا گھرانا کڑ شیعی تھا یہ بھی شیعی تھے پھر سنی ہو گئے تھے مجھ سے خود کہتے تھے کہ ان میں بعضے لوگ ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ بچپن میں ہم سے کہا گیا تھا کہ خلفاء ثلثہ کے نام سڑک پر لکھا کرو تاکہ لوگ اس پر سے راستہ چلیں ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت روشنائی سے فرمایا نہیں انگلی سے ریت میں یا مٹی پر اور کہتے تھے کہ ہم لکھتے پھرا کرتے تھے ـ حق واضح ہونے کا قصہ اس طرح بیان کرتے تھے کہ ایک بار انکو شبہ ہوا اپنے مذہب میں اور یہ حالت ہوئی کہ کبھی سنیوں کے طریقہ پر نماز پڑھتے اور کبھی شیعوں کے طریقہ پر ـ عجب کشمکش کی حالت میں تھے اسی تغیر میں ایک مرتبہ پیران کلیر جانا ہوا وہاں پر حضرت مخدوم علاؤالدین صابرؒ کا مزار ہے وہاں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ مقبولین میں سے ہیں میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ دعا فرمائیں کہ مجھ پر حق واضح ہو جائے اگر ایسا نہ ہوا تو قیامت کے روز آپ کو پیش کر کے الگ ہو جاؤں گا کہ ان سے عرض کیا تھا انہوں نے تونہ نہ کی یہ کہہ کر چل دیئے پھر خیال ہوا کہ شاید خواب وغیرہ میں کوئی بات معلوم ہو جائے گی اس کے یہ قائل نہ تھے لوٹ کر پھر مزار پر آ ئے اور عرض کیا حضرت خواب میں اگر کوئی بات نظر آئی میں نہیں مانوں گا ـ میں یہ چاہتا ہوں کہ بلا کسی سبب ظاہر کے قلب مطمئن ہو جائے اور سکون و اطمینان میسر ہو جائے وہاں سے جو لوٹے ہیں قلب میں یہی واضح ہوا کہ مذہب سنی حق ہے اپنے سنی ہونے کا اعلان کر دیا ـ ایک صاحب نے یہ خبر نانوتہ ان کی والدہ کو پہنچائی کہ تمہارے بیٹے سنی ہو گئے وہ ایسی سخت تھی کہ اول تو اس کو یقین نہیں آیا اور کہا کہ میرا بیٹا ایسا نہیں کہ وہ سنی ہو جائے اس شخص نے کہا کہ تم بیٹھی یہی کہے جانا وہ سنی ہو چکے ان کی والدہ نے اپنے اطمینان کی غرض سے سفر کیا اور تحقیق کے لیے یہاں آئیں بیٹے کو بلوایا اور کہا کہ مجھ کو ایک بات معلوم کرنا ہے اوپر کوٹھے پر الگ چلو آ گے ان کو کیا اور پیچھے خود ہوئی کہ کبھی بھاگ نہ جائیں برداشت نہ کر سکی زینہ ہی میں سوال کر بیٹھی کہ میں نے سنا ہے کہ تم سنی ہو گئے انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے میں سنی ہو چکا ـ
یہ سن کر اس عورت کو اس قدر صدمہ اور رنج ہوا کہ زینہ ہی میں بیہوش ہو کر گر گئی اور لڑھکتی ہوئی نیچے آ کر پڑی جب ہوش آیا بولی کمبخت میں دودھ نہ بخشوں گی ایسا کہنے کی عورتوں کو عادت ہوتی ہے انہوں نے جواب میں کہا کہ تو کیا دودھ نہ بخشے گی میں ہی نہیں بخشوں گا مجھ کو ایسا نا پاک دودھ پلایا کہ اس کے اثر سے میں اتنے زمانہ تک گمراہ رہا ـ ماں نے کہا کہ تو مجھ سے مر گیا میں تجھ سے مر گئی انہوں نے کہا میں بھی سب سے مر گیا اور مجھ سے سب مر گئے حق کو نہیں چھوڑ سکتا تمام عمر ان کی ماں نے صورت نہیں دیکھی ـ دیکھو ! ان میر صاحب نے بھی دعا کی تھی کہ بلا کسی تدبیر کے حق واضح ہو جائے حضرت ساری تدبیریں ایک طرف اور خدا سے تعلق اور دعا کرنا ایک طرف اس کو لوگوں نے بالکل چھوڑ ہی دیا مگر دعا خشوع کے ساتھ ہونا چاہیے اس کے لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ دعا میں کسی خاص دعا کی تعیین نہ کرے اس سے خشوع جاتا رہتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ اب غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عدم تعیین میں بڑی حکمتیں ہیں فرمایا جی ہاں صوفیہ اور فقہاء یہ دونوں جماعتیں حکماء ہیں دین کو جس قدر انہوں نے سمجھا ہے اور کس نے نہیں سمجھا ـ اصل محققین صوفیہ اور فقہاء ہی ہیں ـ ایک مرتبہ مجھ کو خیال ہوا باوجود ان کے حکماء اور محقق ہونے کے پھر ان میں لڑائی کیوں ہوتی ہے ـ میں نے تو یہی فیصلہ کیا کہ غیر محققین میں لڑائی ہوتی ہے اور دونوں جماعتوں کے محققین میں کبھی لڑائی نہیں ہوتی یہ تو جامع ہوتے ہیں تو کیا کوئی اپنے سے بھی لڑا کرتا ہے ـ