( ملفوظ 416 )بزرگوں کی شان اتباع شریعت کے چند واقعات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی جیسی شان تھی وہ ان کے واقعات سے معلوم ہو سکتی ہے ۔ ایک شخص نے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ایک صاحب ہیں انیہٹے میں ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب نے مجھ کو سماع کی اجازت دے دی ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو حجت نہیں ، حضرت حاجی صاحب جس فن کے امام ہیں ان میں ہم ان کے غلام ہیں باقی یہ مسائل فقہیہ ہیں اس میں فقہاء کا اتباع کیا جائے گا ۔ دیکھئے حضرت مولانا ہمیشہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خطوط میں اپنے نام کے ساتھ یہی لکھتے تھے کہ کمترین غلام کمینہ خدام مگر اس موقع پر صاف صاف حقیقت ظاہر کر دی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ان مسائل میں حضرت کو ہم سے فتوی لے کر عمل کرنا چاہیے نہ کہ ہم آپ کے قول پر عمل کریں ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ میں انتظامی شان بڑی زبردست تھی جس کو بعض بدفہموں نے نخوت سے تعبیر کیا نخوت نہ تھی بلکہ صفائی تھی جو ایک مجتہدانہ محققانہ شان کی مظہر تھی اس کے بعد ایک واقعہ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب کا بیان فرمایا کہ جب حضرت شاہ صاحب ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو اجمیر کی طرف سے ارادہ فرمایا ۔ اس وقت ریل نہ تھی ، یہی گاڑی چھکڑے تھے ، اجمیر میں شاہ صاحب کے ایک شاگرد تھے عالم تھے ان کو لکھا کہ میں مکہ کو جا رہا ہوں اور اجمیر کی طرف سے جاؤں گا اور وہاں پر ٹھروں گا اور حضرت خواجہ صاحب کی زیارت کروں گا ۔ شاگرد لکھتے ہیں کہ آپ یہاں پر تشریف نہ لائیے ، آپ کی تشریف آوری سے انتظام شریعت میں گڑبڑ ہو گی اس لیے کہ میں یہاں پر تبلیغ کر رہا ہوں اور سفر کر کے قبر کی زیارت کرنے کو انتظاما منع کرتا ہوں آپ کے آنے سے میرا سب انتظام بگڑ جائے گا ۔ شاہ صاحب نے شاگرد کو اس کا جواب لکھا وہ قابل غور ہے لکھا کہ اس انتظام شریعت کے محفوظ رہنے کی ایک تدبیر ہے وہ یہ کہ میں جب اجمیر آؤں تو تم مجمع کر کے وعظ کہنا اور یہ کہنا کہ بعض لوگ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں مگر بزرگوں کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کر کے آتے ہیں جو جائز نہیں اور ان کا یہ فعل حجت نہیں میں اسی مجمع میں کہوں گا کہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھ سے غلطی ہوئی پھر ایسا نہ کروں گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کی حق پرستی کا ، یہ لوگ عاشق تھے شریعت کے ، کہ آج کل تو کوئی ایسی بات کر کے دکھلائے ۔ ایک سلسلہ گفتگو میں ایک اور واقعہ بیان فرمایا کہ مولوی فضل حق صاحب خیر آبادی مولانا شاہ عبد القادر صاحب سے حدیث کی سند لینے جایا کرتے تھے ، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا حاجت ہے آپ وہاں جاتے ہیں ؟ کہنے لگے معقول تو ہمارے گھر کی لونڈی ہے اس میں تو ہم کسی کے محتاج نہیں البتہ حدیث میں بزرگوں گا معمول ہے کہ برکت کے لیے سند لیتے ہیں سند ہی کے لیے میں جایا کرتا ہوں ۔ شاہ صاحب کشف میں بڑے تھے غالبا ان پر اس کا انکشاف ہو گیا جب یہ حاضر ہوئے ان کا دعوی توڑنے کے لیے فرمایا آج سبق رہنے دو کچھ تفریح کے لیے معقولات میں گفتگو کریں ۔ اول انہوں نے ادب کے سبب عذر کیا پھر راضی ہو گئے ۔ جب گفتگو کی رائے ٹھر گئی اس وقت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب نے اپنے لیے تو چٹائی مسجد کے حصہ میں بچھوائی اور مولوی فضل حق صاحب کے لیے مسجد سے باہر کے حصہ میں ۔ گفتگو شروع ہوئی تو تھوڑی ہی دیر میں مولوی فضل حق صاحب کو بند کر دیا ، خیر یہ کمال تو ظاہر ہے باقی ایک اور دقیق کمال اس واقعہ میں قابل غور ہے وہ چٹائیوں کے مواقع کا اختلاف ہے ۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ مسجد عبادت کے لیے ہے شاہ صاحب کی نیت گفتگو میں اصلاح تھی ۔ مولوی صاحب کی اور وہ عبادت ہے اس لیے مسجد کے اندر بیٹھے اور مولوی صاحب کی نیت اظہار علم تھا اس لیے ان کو مسجد سے باہر بٹھلایا ۔ واللہ اعلم