ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرات سے جب تک کوئی ملتا نہیں جبھی تک وحشت ہے مگر اختلاط کے بعد پھر اپنی وحشت پر تعجب ہوتا ہے جیسے محمود غزنوی کی حکایت ہے جب وہ ہندوستان آئے چند ہندو لوگوں کو گرفتار کر کے لے گئے ۔ ان میں سے ایک لڑکے میں آثار لیاقت کے پا کر اس کو ایک بڑا عہدہ دیا ۔ اس وقت وہ لڑکا رویا ۔ محمود غزنوی نے پوچھا کہ یہ رونے کا وقت ہے ، لڑکے نے کہا کہ میں غم سے نہیں روتا بلکہ مجھ کو میری ماں کی ایک بات یاد آ گئی وہ یہ کہ جب آپ بار بار ہندوستان پر آتے تھے تو بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جاتا تھا کہ تجھے محمود کو دے دیں گے ہم یہ سن کر ڈر جاتے اور سہم جاتے کہ یااللہ محمود کیسا ہو گا ، آج اگر میرے پاس ماں ہوتی تو اس کو دکھاتا کہ دیکھ یہ ہے محمود ۔
