( ملفوظ 214 )بزرگوں کی تعظیم و تکریم

ملقب بہ الاعظام للکرام ۔ ایک شخص آئے اور کھڑے رہے نہ کچھ بولے اور نہ بیٹھے ، حضرت والا نہ اس کی وجہ دریافت فرمائی کہ نہ تو تم کچھ بولے اور نہ بیٹھے اس میں کیا مصلحت تھی اور کیوں کھڑے رہے جس سے مجھ کو گرانی ہوئی ، عرض کیا کہ مصافحہ کی غرض سے کھڑا تھا ، فرمایا مجھ کو بغیر تمہارے کہے ہوئے کیسے معلوم ہوتا کہ تم کس غرض سے کھڑے ہو ، عرض کیا اس ہی وجہ سے کھڑا تھا ، فرمایا جو میں نے کہا اس کو سمجھے نہیں سیدھی بات کو الجھاتے کیوں ہو ، میری بات کو سمجھ کر جواب دینا سوال یہ ہے کہ بغیر تمہارے زبان سے کہے ہوئے مجھ کو کیسے معلوم ہوتا کہ تم کس غرض سے کھڑے ہو ، عرض کیا غلطی ہوئی ، فرمایا کہ یہ تو میری بات کا جواب نہ ہوا اور دوسرے تمہاری اس غلطی سے میں تو پریشان ہوا ، عرض کیا کہ میں خود ہی پریشان ہو گیا ۔ حضرت والا نے ان کے اس جواب پر کچھ تبسم فرماتے ہوئے فرمایا کہ پھر میں نے تم کو پریشان کیا یا تم نے مجھ کو پریشان کیا ، حرکت تو اپنی اور الزام مجھ پر فرمایا کہ خدا بھلا کرے ان رسمی پیروں کا انہوں نے ایسی تعظیم و تکریم کا مرض چلایا ہے کہ جس سے لوگوں کی عادتیں ہی خراب ہو گئیں ، فرمایا یہاں تو ادب ہے عربی اور دوسرے پیروں کے یہاں ادب ہے ایشائی عربی ادب سے جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کا ادب مراد ہے جو صحابہ کو تعلیم فرمایا گیا تھا اس میں رسمی تعظیم و تکریم تو ہے نہیں مگر دوسروں کی راحت کا پوارا سامان ہے یہ ہے ادب عربی اول مرتبہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قباء میں نزول فرمایا ہے ، لوگ خبر پا کر حضرت کی زیارت کے لیے اطراف سے آنے شروع ہو گئے اور چونکہ کبھی زیارت نہیں ہوئی تھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کو بوجہ اس کے کہ وہ دیکھنے میں زیادہ عمر کے معلوم ہوتے تھے حضور سمجھ کر لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ کر کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا پتہ دے دیا تو اس ہجوم سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تکلیف ہو گی ، خود برابر مصافحہ کرتے رہے ۔ دیکھئے یہ ہے ادب کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ وہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے وقایہ بن گئے پھر جب آپ پر دھوپ آئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ چادر سے آپ پر سایہ کر کے کھڑے ہو گئے ۔ جب پتہ لگا کہ مخدوم کون ہیں اور خادم کون اور اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر دھوپ آتی تھی اور یہ جو مشہور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سایہ نہ تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سر مبارک پر ابر رہتا تھا ۔ یہ وجہ تھی سایہ نہ ہونے کی مگر وہ بھی دواما نہ تھا ۔
غرضیکہ اب تو صرف تعظیم کا نام ادب ہے راحت کی پرواہ ہی نہیں ، میں تو کہا کرتا ہوں کہ آج کل جو تہذیب ہے محض تعذیب ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب درس کے لیے تشریف لاتے ہم لوگ حضرت کو آتے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے ۔ ایک مرتبہ حضرت نے فرمایا کہ اس سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے اس کے بعد سے ہم لوگ کبھی کھڑے نہیں ہوئے اور یہی خیال کیا کہ نہ کھڑے ہونے میں تو ہم کو تکلیف ہو گی اور کھڑے ہونے میں مولانا کو تکلیف ہو گی لہذا اپنی تکلیف کو برداشت کیا اور مولانا کی تکلیف کو برداشت نہیں کیا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی تو صحابہ کے کھڑے ہونے کو منع فرمایا ہے ، فرمایا کہ وہ اس وجہ سے بھی تھا کہ ملوک عجم کے دربار میں یہ دستور تھا کہ سب لوگ ہاتھ باندھے دست بستہ کھڑے رہتے تھے باقی قدوم کے وقت کھڑا ہو جانا اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے ۔ گو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے لیے اس کو بھی پسند نہیں فرمایا ۔ ایک صاحب نے جن کی رائے قیام قدوم کی بھی ممانعت کی تھی مجھ کو لکھا تھا کہ کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ نے کھڑا ہونے کو منع کیا ہے اور بھی اس میں چند سوالات علمی تھے ، میں نے لکھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائیں تو کیا آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ کر بیٹھے رہیں گے ۔ اس پر انہوں نے بہت ہی اچھا جواب دیا کہ اس کو نہ پوچھو اس وقت تو شاید میں سجدہ میں گر جاؤں مگر کیا سجدہ میں گر جانا جائز ہو جائے گا ۔ یہ عشق کے کرشمے ہیں یہاں پر ضابطہ سے کام نہیں چلتا ، پھر آثار عشق کے سلسلہ میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ حضرت سید احمد رفاعی معاصر ہیں حضرت جیلانی کے بہت بڑے اولیاء کبار سے گزرے ہیں ۔ ایک مرتبہ روضہ مبارک پر حاضر ہوئے اور عرض کیا السلام علیکم یا جدی جواب مسموع ہوا و علیک السلام یا ولدی ، اس پر ان کو وجد ہو گیا اور بے اختیار یہ اشعار زبان پر جاری ہو گئے :
فی حالتہ البعد روحی کنت ارسلھا تقبلا لارض عنی و ھی نائبتی
فھذہ ذولۃ الا شباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظی بھا شفتی
ترجمہ : میں حالت بعد میں اپنی روح کو ( روضہ شریف پر ) بھیجا کرتا تھا کہ وہ میری طرف سے نائب بن کر زمین بوسی کیا کرتی تھی اور اب جسم کی باری ہے جو خود حاضر ہے سو اپنا ہاتھ بڑھا دیجئے تا کہ میرا لب اس سے بہرہ ور ہو جائے ، فورا ہی روضہ مبارک سے ایک نہایت منور ہاتھ جس کے رو برو آفتاب بھی ماند تھا ظاہر ہوا انہوں نے بے ساختہ دوڑ کر اس کا بوسہ لیا اور وہیں گر گئے ۔ ایک بزرگ جو اس واقعہ میں موجود تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو اس وقت کچھ رشک ہوا تھا ، فرمایا کہ ہم تو کیا چیز تھے اس وقت ملائکہ کو رشک تھا ۔ جب حضرت رفاعی نے دیکھا کہ لوگ مجھ کو نظر قبول و جاہ سے دیکھ رہے ہیں دروازہ پر جا لیٹے اور حاضرین سے کہا کہ سب آدمی میرے اوپر سے جائیں علاج تھا ۔ سیوطی نے یہ حکایت لکھی ہے اس وقت نوے ہزار کا مجمع تھا لوگوں کا ۔ تم ملفوظ الاعظام للکرام
12 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ