فرمایا کہ متکبر آدمی مزاح کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے اس پر ایک واقعہ بیان فریا کہ ایک مرتبہ میں اور بھائی منشی اکبر علی مولانا والی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے گئے ایک شخص بعد نماز کے برتن میں نمازیوں سے پانی دم کر رہا تھا ، میں اور بھائی صاحب جب مسجد سے نکلے اس شخص نے زبان سے تو کچھ نہ کہا بھائی کے سامنے بھی وہ برتن کر دیا ، بھائی نے اس کو ہاتھ میں اٹھا لیا وہ سمجھا کہ اور تو لوگ ویسے ہی چھو چھا کر گئے یہ اہتمام کے ساتھ دم کریں گے ۔ بھائی صاحب نے یہ کیا کہ سب ایک دم پی گئے وہ شخص بڑا جھلایا ، بھائی نے کہا کہ تم نے زبان سے کچھ کہا تھا کہا نہیں ، پھر میں کس طرح سمجھتا کہ تم نے کیوں دیا ہے میں یہی سمجھا کہ محبت سے پینے کو دے رہے ہو ایسا متبرک پانی کہاں میسر ہوتا جس پر پچاسوں مسلمانوں کی دعائیں دم ہوئی ہیں ، میں پی گیا ۔ فرمایا جتلانا مقصود تھا کہ زبان سے کہنا چاہیے تھا گو قرینہ کافی تھا اور قرینہ سے سمجھ کر ایسا تصرف اور ایسا طریقہ تنبیہ جائز نہ تھا لیکن احوط پھر بھی قرینہ پر اکتفا نہ کرنا اور زبان ہی سے کہنا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ہر شخص سے کہاں تک کہتا ، پھر فرمایا اس کی ضرورت ہی کیا ہے ایک مرتبہ بلند آواز سے پکار کر کہہ دے تا کہ سب سن لیں ۔ عرض کیا کہ ممکن ہے کہ کوئی بھی نہ سنے ، فرمایا اگر ایسا احتمال ہو تو فردا فردا کہنا چاہیے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مزاج کی شوخی دلیل ہے روح کے زندہ اور نفس کے مردہ ہونے کی ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی مزاح فرمایا کرتے تھے ، فرمایا ہاں مگر ایک خاص حد تک زیادہ نہیں ، بہت کم وہ بھی دوسروں کی تطییب قلب کی مصلحت سے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک شخص نے اونٹ مانگا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجھ کو اونٹنی کا بچہ دوں گا ۔ عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بچہ کیا کروں گا ، فرمایا کہ اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے ۔
