ملفوظ 176: ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود لوگوں کا حضرت سے چمٹنا

ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود لوگوں کا حضرت سے چمٹنا ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سمجھ میں نہیں آتا یہاں پر قدم قدم پر قید اور شرائط ہیں ـ ہر ہر بے عنوانی پر مواخذہ محاسبہ ہے ڈانٹ ڈپٹ ہے مگر لوگ ہیں ٹلتے نہیں فرمایا ایسی حالت میں اہل محبت اور اہل فہم ہی ٹھہر سکتے ہیں اور میرا مقصود ان سب چیزوں سے الگ اور دوسروں کی راحت ہے اور جو کچھ کہتا سنتا ہوں اس کا منشاء محبت اور آنے والوں کی احلاح ہے۔اگر یہ قیود اور شرائط اور ڈانٹ ڈپٹ نہ ہوتی تو یہاں پر ایک ہجوم ہوتا خصوص اہل دنیا کا ـ کوئی تعویذ نانگتا کوئی کچھ کوئی کچھ ـ یہ جو ضروری ضروری کام خدا کے فضل سے ہو گئے ہیں ـ ہجوم کی بدولت ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا اس لئے ضرورت تھی ایسے قیود کی ـ اور اس ہی وقت میں آنے والوں کی بھی بحمداللہ خدمت ہوتی ہتی ہے ـ