( ملفوظ 122 ) دانت گرنے کی تعبیریں

مولوی عبدالمجید صاحب نے عرض کیا کہ میں اکثر خواب میں دیکھتا ہوں کہ میرے تمام دانت داڑھ نکل کر گر پڑے ، فرمایا ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب فرمایا کرتے تھے کہ دانت سخت چیز ہے اس سے سختی دور ہونا ہے ایک اور بھی اس کی تعبیر ہو سکتی ہے کہا کرتے ہیں کہ دندان آز تیز ہو گیا پس اس خواب سے مراد ہے کہ حرص جاتی رہی ۔ ایک اور تعبیر ہے جو بعض دانتوں کے ساتھ خاص ہے یعنی سامنے کے دانتوں کے ساتھ ۔ پس اس سے مراد نمائش اور ریاء کی اصلاح ہے کیونکہ یہ سامنے کے دانت زینت اور نمائش ہی کے لیے ہوتے ہیں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ سامنے کے دانت حضرت مخارج کی ادا کے لیے بھی تو ہو سکتے ہیں ۔ فرمایا کہ مخارج تو مسوڑھوں سے بھی ادا ہو سکتے ہیں ۔ چناچہ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے دانت نہ رہے تھے مگر قرآن شریف پڑھنے کے وقت یہ نہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت کے دانت نہیں ہیں ۔ احقر جامع نے دریافت کیا کہ حضرت گنگوہی کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا تقریبا اسی سال کی تھی ۔ ایک صاحب نے حضرت گنگوہی سے عرض کیا تھا کہ حضرت دانت بنوا لیجئے ، فرمایا کیا ہو گا دانت بنوا کر پھر بوٹیاں چبانی پڑیں گی ، اب تو دانت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو رحم آتا ہے ، نرم نرم حلوا کھانے کو ملتا ہے ، حضرت بڑے ہی ظریف تھے ۔