فرمایا کہ مولوی صاحب نے بذریعہ پرچہ آج صبح اپنے حالات سے اطلاع دی تھی میں نے ان کے جواب دیدئے ۔ ایک یہ بات دریافت کی تھی کہ مجھ کو کوئی خاص وصیت فرما دی جائے ۔ اس کا جواب میں نے یہ دیا کہ جہاں تک ممکن ہو تعلقات کم کرنے چاہیں ۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ تعلقات سے حضرت کی کیا مراد ہے ؟ فرمایا ان مولوی صاحب کو دوسروں کے معاملات میں گھسنے کا اور مشوروں میں پڑھنے کا بہت شوق ہے ، آدمی کو آزاد ہو کے رہنا چاہیے ۔ عرض کیا کہ اگر کوئی مشورہ لے یا کوئی بات پوچھے تو کیا بتلا دے ، فرمایا کہ آج کل تو یہ بھی مناسب نہیں ۔ یہ باتیں تجربے سے تعلق رکھتی ہیں ، اسی میں راحت ہے کہ دوسروں کے قصہ جھگڑوں میں نہ پڑے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
ہیچ کنجے بے دود بے دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ درندوں اور کشمکشوں سے خالی نہیں ہے ، بجز خلوت حق کے کہیں حقیقی راحت نہیں )
