حضرت والا نے ایک مضمون بیان کرنا شروع ہی فرمایا تھا ایک صاحب درمیان میں ایک بے تعلق سوال کر بیٹھے ، اس پر فرمایا کہ ایک شخص تو مشقت کر کے افادہ کرے اس کی یہ قدر کی جائے بے محل سوالوں سے تقریر بالکل بے لطف ہو جاتی ہے ۔ بات یہ ہے کہ جو چیز مفت میں ملتی ہے اس کی یہ ہی گت بنتی ہے اگر ناک رگڑوا کر چھ مہینے میں ایک بات کہتا تب قدر ہوتی پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جواب دیجئے آپ نے یہ بے جوڑ سوال کیا ، اس وقت کیا محل تھا ان صاحب نے عرض کیا کہ غلطی ہوئی آئندہ انشاء اللہ ایسا کبھی نہ ہو گا ، فرمایا کہ آدمی کو فہم سے کام لینا چاہیے اس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی بات نہ کی جائے کہ جس سے دوسرے کو اذیت پہنچے ۔ یہ اول عمل ہے اس راہ میں ۔
