ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام کی تعلیم کا اصل مقصد خدا کی یاد خدا کی اطاعت خدا سے صحیح تعلق رکھنا ہے ایسی تعلیم غیر اسلام میں کوئی نہیں دکھا سکتا ۔ چنانچہ تمام احوال کے متعلق مثلا گھر میں جاؤ گھر سے باہر آؤ پاخانہ جاؤ پاخانہ سے باہر آؤ وضو کرو نماز پڑھو حتی کہ انزال کے وقت جبکہ سوائے بیوی کے اور کوئی چیز نظر میں نہیں ہوتی اس وقت کے لیے بھی اس کی تعلیم موجود ہے کہ خدا کو یاد رکھو ۔ پس ہر کام میں دین کو مقصود بنایا گیا ہے یہاں ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہر مذہب کے مقتداؤں کو کیف ما اتفق بلا انتخاب دیکھنا چاہیے کہ کثرت سے دین کی طرف لگاؤ والوں کی تعداد کن ادیان میں زیادہ ہے سو جیسے مسلمانوں کے مقتداء ہیں کسی مذہب کے ایسے پیشوا نہیں بعضے ادیان کے پیشوا تو اکثر فاسق فاجر ہیں ۔
