( ملفوظ 491) دین اور دنیا کا فرق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا دین کی باتوں میں تو کہا جاتا ہے کہ جی نہیں لگتا ، مزہ نہیں آتا ، احکام گورنمنٹ میں بھی جو کہ نفس کے خلاف ہوں کبھی کہا ہے کہ جی نہیں لگتا ، مزہ نہیں آتا ، مثلا گورنمنٹ حکم دے کہ مال گزاری داخل کرو ، یا ٹیکس داخل کرو ، اس وقت یہ کہہ کر الگ ہو جائیں کہ ہم داخل نہیں کرتے ہمیں مزہ نہیں آتا یہ جی نہیں لگتا ، ایسا کر کے دیکھیں جیل خانہ میں پہنچ جائیں ، جیل خانہ میں جا کر علم آ جاتا ہے ۔ اے صاحبو ! خدا کے ساتھ محبت نہ سہی مگر ان کی حکومت تو ہے یہی سمجھ کر احکام بجا لاؤ ، میں تو کہا کرتا ہوں کہ ایسی بیہودہ باتیں جو سوجھتی ہیں اس کا سبب ہے کہ نہ خدا کے ساتھ محبت ہے نہ خدا کی عظمت ہے اس لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں مثلا یہ کہ جی نہیں چاہتا ، میں کہتا ہوں کہ ماں کے پیٹ سے ہی نکلنے کو کب جی چاہتا تھا ، دائی نے ٹانگیں پکڑ کر زبردستی کھینچ لیا تھا ، سودائی کا اتباع کیا مگر داعی کا اتباع نہیں کرتے ، اصل میں ان جذبات کے پیدا کرنے کے لیے صحبت کی ضرورت ہے ۔ یہ باتیں نہ کتابوں کے دیکھنے سے حاصل ہوتی ہیں نہ پڑھنے سے یہ تو کسی کی صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہو سکتی ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک مینڈک گندے چھچہ میں جس میں گندہ کیچڑ بھرا ہوا ہے رہتا ہے اور ایک مینڈک کسی کنویں میں جہاں پاک ہے رہتا ہے یہ کنویں کا رہنے والا مینڈک اس چھچہ کے رہنے والے مینڈک سے کہتا ہے کہ میاں کہاں اس گندگی اور ناپاک جگہ میں رہتے ہو ہم تو ایسی صاف اور شفاف اور پاک جگہ میں رہتے ہیں یہ گندگی کا رہنے والا مینڈک ۔ اس وجہ سے کہ اس نے وہ صاف شفاف پانی دیکھا ہی نہیں تکذیب کرتا ہے کہ میاں کیوں جھوٹ بولتے ہو بالکل یہی مثال ہے اس کی کہ دنیا دار دین دار کی تکذیب کرتا ہے چونکہ دین کا لطف جو عمل اور صحبت سے میسر ہوتا دیکھا نہیں اگر اس کی صحیح نظر سے دیکھ لیتے تو دنیا کو اس وقت کے دیکھنے سے بھی زیادہ دیکھنا مضر نہ ہوتا بلکہ مفید ہوتا اسی لیے میں نے ایک وعظ میں کہا تھا کہ تم نے آج تک یہ ہی سنا ہو گا کہ دنیا کی طرف توجہ نہ کرو یہ نہایت گندی اور ناپاک ہے مگر میں تعلیم دیتا ہوں کہ دنیا کی طرف خوب توجہ کرو تا کہ اس کم بخت گندگی سڑیل کی حقیقت تو معلوم ہو جائے گی ۔ یہ خوب توجہ تب ہی مفید ہو سکتی ہے جبکہ دین کو بھی دیکھ لو تا کہ موازنہ کر سکو ۔ اب چونکہ موازنہ کرنے سے پوری حقیقت دنیا کی بھی معلوم نہیں ( اس لیے دنیا کی طرف میلان ) پس اس کی اس طرف جھکنے اور دین سے اعراض کا سبب اس کی حقیقت سے بے خبری ہے اور اس کے ساتھ ایک اور سبب بھی ہے کہ دنیا نقد ہے اور دین ادھار مگر اس نقد میں وہ مزہ نہیں جو اس ادھار میں ہے ایسے ایسے لاکھوں نقد قربان ہیں اس ادھار پر کیونکہ وہ نقد ہے مگر مکدر اس قدر ہے کہ کوئی عاقل اس کو قبول نہیں کر سکتا ۔ اسی تکدر کے متعلق امام غزالی نے ایک عجیب بات فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کوئی عیب نہ ہو تو یہ کیا تھوڑا عیب ہے کہ ہاتھ سے بہت جلد نکل جانے والی ہے پھر اگر اس سے گہری محبت ہو گئی تو اس محبت کا خمیازہ مرنے کے وقت معلوم ہو گا جو وقت اس کے ہاتھ سے نکلنے کا ہے وہ خمیازہ یہ ہے کہ جو چیز محبوب ہوتی ہے اس چیز سے جدا کرنے والے پر طبعا غصہ ہوتا ہے اور موت کے وقت مفارقت ہوتی ہے مال سے جاہ سے اولاد سے اور وہ مفارقت ہوتی ہے امر حق سے پس ایسے وقت اس کا دم نکلتا ہے کہ اس کو وقت خدا تعالی بغض ہوتا ہے ( نعوذ باللہ ) اور سب خطرات اس وقت ہیں جب دنیا دل میں ہو ورنہ کچھ بھی مضر نہیں ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسی کو فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کا ہاتھ میں ہونا مضر نہیں ، دل میں ہونا مضر ہے ۔ بطور مثال کے یہ پڑھا کرتے تھے :
آب در کشتی ہلاک کشتی است آب اندر زیر کشتی پشتی است