ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شریعت مقدسہ کے حدود اس قدر پاکیزہ ہیں اور ایسے اصول ہیں کہ اگر وحی کے ذریعے سے بھی اطلاع نہ کی جاتی تو فطرت سلیمہ بھی اسی کی مقتضی ہوتی مگر چونکہ طبائع سلیمہ بہت کم ہیں اس لیے وحی کی حاجت ہوئی اور وہ سراسر حکمت ہی حکمت ہے مگر عقول عامہ کی ان حکمتوں تک رسائی مشکل ہے اور عمل سے پہلے محض بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آ سکتی ۔ البتہ عمل کر کے دیکھئے انشاء اللہ سمجھ میں آ جائے گی کیونکہ وقوع سے اس کا مشاہدہ ہو جائے گا مگر اکثر لوگ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ پہلے حکمت سمجھ میں آ جائے تو عمل کریں اور حکمت اس کی منتظر ہے کہ یہ شخص عمل کرے تو میں سمجھ میں آؤں پھر علاوہ حکمت کے بڑی چیز جو عمل سے میسر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قلب میں اس سے اطمینان و سکون پیدا ہوتا ہے یہ سب سے بڑی حکمت ہے ۔ ایک شخص ہندو جو اب ایک بڑے عہدے پر مامور ہیں انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا میں حقیقت کے باب میں متردد ہوں ، کسی حقیقت پر قلب کو سکون و اطمینان نہیں ہوتا ، اپنے مذہبی طریقہ پر خدا کی یاد بھی کرتا ہوں مگر اطمینان میسر نہیں ہوتا کوئی تدبیر
بتلائیے کہ جس سے اطمینان قلب میسر ہو اور حق واضح ہو جائے ۔ میں نے کہا کہ کثرت سے ” اھدنا الصراط المستقیم ” پڑھا کرو اور ایک بات اور کہنے کی ہے کہ وہ یہ ہے کہ اب تک اپنے مذہب کے طریقہ پر عمل کر کے دیکھا اور اطمینان نہیں ہوا ، اب ہماری شریعت کی تعلیم پر بھی عمل کر کے دیکھو ، اگر پھر بھی اطمینان نہ ہو ہم ذمہ دار حق سبحانہ تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی اطمینان میسر ہو گا اور پھر مولانا رومی اس کو فرماتے ہیں :
ہیچ کنجے بے درد و بے دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بغیر تکلیف کے نہیں ہے صرف خلوت گاہ حق میں آرام ہے ۔ 12 )
میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ خواہ اعتقاد کے ساتھ نہ دیکھو بطور امتحان ہی کر کے دیکھ لو تو مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
سالہا تو سنگ بودی دلخراش آزموں را یک زمانے خاک باش
( برسوں تک تو پتھر بنا رہا ، آزمانے کے لیے چند روز خاک بن کر بھی دیکھ 12 )
بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ بدون کھانے کے محض بتلانے سے مزہ کی حقیقت نہیں معلوم ہوتی ۔ مثال سے سمجھ لیجئے جیسے ولایتی شخص کو جس نے کبھی آم نہ کھایا ہو آم کا مزہ نہیں بتلا سکتے ۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ میٹھا ہے وہ اس پر کہے گا کہ انگور جیسا میٹھا کہیں گے نہیں وہ کہے گا سیب جیسا میٹھا ، کہیں گے نہیں اب اس کے سمجھ میں آنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آم اس کے ہاتھ میں دے کر کہا جائے کہ لے کھا کر مزہ سمجھ لے ۔ ایک اردو رسالہ کی ایک حکایت یاد آئی بہت سی سہیلیاں آپس میں جمع رہتی تھیں اور یہ وعدہ تھا کہ جس کا بیاہ پہلے ہو جائے وہ اس مزہ سے سب کو آگاہ کرے ، ایک سہیلی کا پہلے بیاہ ہوا ، شب گزر جانے پر صبح کو سب سہیلیاں جمع ہوئیں اور اس سے مزہ کے متعلق سوال کیا ، اب وہ بیچاری کیا بیان کرے بیان کرنے سے اس کی حقیقت سمجھ میں آ نہیں سکتی تھی تو اس نے یہ کہا :
بیاہ یوں ہی جب تمہارا ہوئے گا تب مزہ معلوم سارا ہوئے گا
دوسری حکایت ایک اندھے حافظ جی کو لڑکوں نے نکاح کی ترغیب دی کہ حافظ جی نکاح کر لو ، اس میں بڑا مزہ ہے حافظ جی نے کوشش کر کے نکاح کیا اور رات کو بی بی کے بدن سے روٹی لگا لگا کر کھائی ، مزہ کیا آتا صبح کو لڑکوں سے کہا کہ سسرو تم کہتے تھے بڑا مزہ ہے ہم نے تو روٹی لگا کر کھائی تھی ہم کو تو کچھ بھی مزہ نہیں آیا ، لڑکوں نے کہا کہ حافظ جی مارا کرتے ہیں ، آئی شب تو خوب بیچاری کو زدوکوب کیا تمام محلہ میں غل مچ گیا ، اہل محلہ نے حافظ جی کو برا بھلا کہا صبح کو پھر آئے کہنے لگے سسروں نے دق کر دیا ، کہتے ہیں کہ بڑا مزہ ہے کیا مزہ ہے ہم نے تو مار کر بھی دیکھ لیا ، کچھ بھی مزہ نہ آیا بلکہ خود ہی پٹنے سے بچ گئے ۔ تب لڑکوں نے مارنے کی حقیقت بتلائی کہ مارنے کے یہ معنی ہیں اور یہ مطلب ہے اب جو شب آئی اور لڑکوں کی تعلیم کے موافق عمل کیا تب حافظ جی کو حقیقت منکشف ہوئی کہ واقعی مزہ ہے صبح کو جو آئے تو مونچھ کا ایک ایک بال کھلا ہوا تھا اور خوشی میں بھرے ہوئے تھے تو حضرت کر کے دیکھنے سے حقیقت معلوم ہوتی ہے ایک اندھے حافظ جی کی دوسری حکایت ہے کہ ایک لڑکے نے کہا کہ حافظ جی تمہاری دعوت ہے پوچھا کیا کھلائے گا کہا کہ کھیر ، حافظ جی نے دریافت کیا کھیر کیسی ہوتی ہے کہا کہ سفید سفید ، دریافت کیا کہ سفید سفید کیسا ہوتا ہے کہا جیسا بگلہ دریافت کیا کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے لڑکے نے اپنا ہاتھ حافظ جی کو کہنی سے پکڑ کر اور ہاتھ کے پہنچے کو جھکا کر کہا کہ ایسا ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے جو ہاتھ پھیر کر دیکھا تو کہنے لگے کہ نہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے یہ حلق سے نیچے کس طرح اترے گی ۔ اب حافظ جی کو سمجھانے کی ایک ہی صورت تھی کہ کھیر کا طباق بھر کر سامنے لا رکھتا کہ یہ ہے کھیر کھا کر دیکھ لو ۔ غرضیکہ جو چیز کر کے دیکھنے کی ہے وہ بیان میں کیسے آ سکتی ہے جب کھیر کی جو کہ حسی چیز ہے حقیقت محض بتلانے سے سمجھ میں نہ آئی تو دین جو کہ ایک معنوی چیز ہے کس طرح سمجھ میں آ سکتا ہے اس کو بھی کر کے دیکھو ۔
