( ملفوظ 187 )دین کے نادان دوست

( ملقب بہ شکوی المتحسبین ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فہم کا آج کل اس قدر قحط ہو گیا ہے شاید ہی الا ماشاء اللہ کوئی اس نعمت سے بہرہ ور ہو ورنہ بڑے بڑے لکھے پڑھے اور تعلیم یافتہ اس سے کورے ہیں جتنی حرکات ہیں سب بد فہمی کی یہ لوگ دین کو تو کیا سمجھتے ، دنیا کی بھی سمجھ نہیں ویسے خطابات بڑے بڑے کوئی عقلاء کہتے ہیں کوئی ریفارمر کوئی لیڈر لفافہ پر پتہ تو بڑے جلی قلم سے لکھا ہوا ہے مگر جب کھول کر دیکھو تو معقول مضمون ندارد ان کی بیہودگیوں اور کم عقلی کی باتوں نے مسلمانوں کو تباہ اور برباد کیا ، ملک میں ہر روز ایک ڈھونگ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر دین کے پکے دشمن ہیں دوستی کے پردہ میں دشمنی کر رہے ہیں ۔ احکام اسلام کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ، کوئی کہتا ہے کہ حرمت سود کا مسئلہ مانع ترقی ہے کوئی کہتا ہے کہ پردہ مسلمانوں کی ترقی کو مانع ہے کوئی کہتا ہے کہ صرف توحید خداوندی کی ضرورت ہے اعتقاد و رسالت مانع ترقی ہے ۔ غرض یہ کہ ہاتھ دھو کر اسلام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور پھر مسلمان کے مسلمان قوم کے خیر خواہ راہبر مقتداء بنے ہوئے ہیں ، خیر لگا لیں زور ایڑی سے چوٹی تک انشاء اللہ اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، انشاء اللہ وہ اپنی جگہ پر ہے اور اس کے احکام اور تعلیم کی خوبیاں تو غیر مسلم اقوام کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفروں کو تعلیم ہے واقعی حق تعالی ہی اپنے دین کے محافظ ہیں ورنہ اس سے پہلے بھی لوگ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنی تمام قوتیں صرف کر گئے مگر کچھ نہیں ہوا ۔ ارشاد فرماتے ہیں :
انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ۔
ترجمہ : ” ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم اس کے محافظ اور نگہبان ہیں ”
اور فرماتے ہیں : یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم و اللہ متم نورہ و لو کرہ الکفرون ۔ ( سورہ صف )
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے نور یعنی دین اسلام کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ، گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں ۔ 12 ”
اسی کو فرماتے ہیں :
چراغے را کہ ایزد بر فروزد ہر آنکس تف زندریشش بسوزد
اگر گیتی سراسر باد گیرد چراغ مقبلاں ہر گز نہ میرد
( جس چراغ کو اللہ تعالی نے روشن کیا ہو اس کو گل کرنے کیلئے جو پھونک مارے گا اس کی داڑھی جل جائے گی اگر ساری زمین میں آندھیاں آ جائیں تو بھی اہل اللہ کا چراغ گل نہیں ہو سکتا )
اور اسلام کی تو وہ شان ہے جس کو فرماتے ہیں :
ہنوز آں ابر رحمت درفشان ست خم و خم خانہ با مہرو نشان ست
( آج بھی وہ ابر رحمت موتی برسا رہا ہے اور خم اور خم خانہ سب سر بمہر موجود ہے ۔ 12 )
اگر اس کے ساتھ حق تعالی کی محافظت نہ ہوتی اور اس کی حمایت کے لیے حق تعالی وہ جماعت پیدا نہ فرماتے جس کی خبر مخبر صادق حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرما گئے ہیں :
لا یزال طائفۃ من امتی منصورین علی الحق لا یضرھم من خذلھم
” میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گاہ جو حق پر ہو گا اور حق تعالی کی طرف سے اس کی امداد ہوتی رہے گی ، کسی کی مخالفت اس کو ضرر نہ پہنچائے گی ۔ 12 ”
تو آج کل کے ریفارمر اور عقلاء کی سازش اور شر کچھ کم نہ تھا ۔ فرماتے ہیں کہ :
و ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال
” واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں ۔ 12 ”
ان سازشوں کو دیکھ کر اسلام بزبان حال کہتا ہے :
قتل ایں خستہ بہ شمشیر تو تقدیر نبود ورنہ ہیچ از دل بیرحم تو تقصیر نبود
( اس بیچارہ کا قتل تیری تلوار سے مقدر ہی نہ تھا ورنہ تیرے دل بے رحم نے تو کوئی کسر چھوڑی نہ تھی ۔ 12 )
اسلام کو غیروں کی شکایت نہیں اس کو تو مسلمانوں ہی سے شکایت ہے ۔ اسلام بزبان حال کہتا ہے :
من از بیگان گاں ہر گز نہ نالم کہ بامن آنچہ کرد آں آشنا کرد
( میں غیروں کا شاکی نہیں کیونکہ میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ اپنوں نے کیا ہے ۔ 12 )
طعنہ اہل جہاں کی مجھے پرواہ کیا تھی تم بھی ہنستے ہو مرے حال پر رونا ہے یہی
اس تحریک حاضر کے زمانہ میں احکام شرع میں اس قدر تحریف ہوئی ہے کہ زمانہ سابق سے اب تک کبھی بھی اس قدر تحریف نہ ہوئی تھی اور زیادہ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان بدخواہوں کے ساتھ بعض اہل علم پھسل گئے ، پھر خیر کہاں مگر ہوتا کیا ہے ۔
قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
ایسے ہی عقلاء اور ریفارمروں کے متعلق کسی نے خوب کہا ہے :
گربہ میرو سگ وزیر وموش را دیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویراں کنند