( ملفوظ 186 )شرط الطلب یعنی طلب صادق کی شرط

( ملقب بہ شرط الطلب ) ایک صاحب نے بیعت ہونے کی درخواست کی ۔ حضرت والا نے فرمایا اس میں جلدی نہ کرنا چاہیے اس میں طرفین کی مصلحتیں ہیں ۔ آپ مجھے اچھی طرح دیکھ لیں میں آپ کو دیکھ لوں ، کبھی آپ کو یا مجھے بعد میں پچھتانا پڑے ، میں یہ دیکھ لوں کہ تمہاری طلب کیسی ہے شوق دین کا کیا ہے سمجھ اور فہم کیسی ہے پیشتر کبھی ملے ہو ۔ عرض کیا کہ کئی مرتبہ یہاں پر جمعہ پڑھا ہے فرمایا کہ اس کو تو ملاقات نہیں کہتے ، ابھی تک تو مجھ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ آپ کہاں سے آئے ہو ، کیا نام ہے کیا کام کرتے ہو ، ابھی تو کئی منزلیں درمیان میں ہیں ان کو طے کرنے کے بعد بیعت ہونے کی درخواست کرنا چاہیے ۔ دوسرے بیعت خود ایسی ضروری چیز نہیں جس کے بدون کام ہی نہ چل سکے ، پہلے کام شروع کیجئے اگر نفع ہو اور مناسبت بھی پیدا ہو جائے تو اس کو بیعت کی روح اور مغز سمجھنا چاہیے ۔ اصل چیز تو اس طریق میں مناسبت اور اعتماد ہے جس پر نفع کا مدار ہے اس کی کوشش اور سعی کیجئے ۔ مذکورہ بالا گفتگو ہو جانے کے بعد ان صاحب نے ایک خط حضرت والا کی خدمت میں پیش کیا ملاحظہ فرما کر فرمایا لیجئے اگر میں کہتے ہی بیعت کر لیتا تو گڑبڑ ہوتی یا نہیں ؟ آتے ہی یہ خط کیوں نہیں دیا میں نے اس میں صاف لکھا ہے کہ آتے ہی یہ خط دکھلا دینا ، عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا غلطی ہوئی تو اب میں خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں ۔ واقعہ کی حقیقت ظاہر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ نے خلاف تو کیا میرے لکھنے کے جس سے محبت کا دعوی ہے اور اس سے دین کا نفع بھی حاصل کرنا ہے اس کی مخالفت یہ تو آپ نے کیا دھرا سب برباد کر دیا ۔ یہ مصلحتیں ہیں کہ میں فورا بیعت نہیں کرتا ، عرض کیا کہ واقعی مجھ سے سخت غلطی ہوئی اپنے قصور کی معافی کا خواستگار ہوں ۔ فرمایا کہ معاف بھی کرتا ہوں مگر مخالفت کا جو نقصان ہے وہ تو ہو گا اس وقت آپ کا آنا نہ آنا برابر ہو گیا ، مزاحا فرمایا کہ آپ کا آنا تو پائی بھی نہ رہا ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اس غلطی کا منشاء بد فہمی ہے یا بے فکری ؟ عرض کیا کہ بے فکری ، فرمایا کہ میں زور تو دیتا نہیں اور نہ مجھ کو جواب کا انتظار ہو گا لیکن جی چاہے اور ذہن میں بھی بسہولت آ جائے تو کیا اس بے فکری کا سبب بتلا سکتے ہو اس پر وہ صاحب خاموش رہے ۔ حضرت والا نے بھی دوبارہ اس پر مطالبہ نہیں فرمایا اور فرمایا کہ خیر جو کچھ بھی ہوا مگر میں اس قدر کرتا ہوں کہ ہر ہر بات کا اقرار تو کر لیا ، کوئی تاویل یا گڑبڑ نہیں کی ۔ ( جن حضرات کی یہ رائے ہے کہ حضرت والا کے مزاج میں درشتی یا سختی ہے وہ اس کو ملاحظہ فرما کر اپنی رائے کے صائب ہونے نہ ہونے پر غور فرمائیں کہ کیا اس کو سختی کہتے ہیں ( احقر جامع ) اسی سلسلہ میں فرمایا کہ نہ معلوم کس طرح تم لوگ دل میں حساب لگا لیتے ہو ایک صاف بات اور کھلی ہوئی بات کو الجھا دیتے ہو ، چاہیے تو یہ کہ اگر الجھی ہوئی بھی بات ہو تو اس کو بھی صاف کریں ، آج کل اس کا عکس کرتے ہیں اس قدر خودرائی کی ترقی ہوئی ہے کہ ہر شخص کو اس میں ابتلا ہے ، آتے ہیں معتقد ہو کر اور کرتے ہیں مخالفت ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ نہیں صاحب یہ وجہ نہیں بلکہ طبیعت میں اطاعت نہیں خودرائی ہے ، اپنی رائے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں ، دوسرے کو اس کے تابع بنانا چاہتے ہیں اس راہ میں اپنی رائے سے کوئی کام ہی نہیں کرنا چاہیے یہ اس راہ میں کم بخت سم قاتل ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصل مضر چیز اس طریق میں خودرائی ہے مگر سب باتیں فکر سے ہوتی ہیں سارا مرض بے فکری کا ہے سوچتے ہی نہیں جو جی میں آیا کر لیا ۔