ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں دو نکاحوں میں بڑا لطف ہے مگر وہ لطف ایسا ہے جیسے جنت تو ہے مگر بیچ میں پل صراط بھی ہے جو طے کرنا ہو گا ۔ جب میں نے یہ عقد ثانی کیا تو بڑے گھر میں سے کہنے لگیں کہ تم مردوں کے لیے دوسرا نکاح کرنے کا رستہ کھول دیا ، میں نے کہا کہ کھولا نہیں بند کر دیا اب جو کوئی دیکھا گا نام بھی نہ لے گا بلکہ یہ کہے گا : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ دیکھئے یہاں پر یہ ترازو کھڑی ہے جس سے چیزیں برابر تقسیم کی جاتی ہیں اس کا نام میں نے میزان عدل رکھا ہے خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے بعض دفعہ مشقت بھی ہوتی ہے مگر اس سے تسلی ہے کہ ہر مصیبت پر ثواب ہو رہا ہے ۔ گو دونوں گھروں سے میں نے ایک روپیہ کا تفاوت معاف کرا رکھا ہے لیکن پھر بھی مساوات کا اہتمام رکھتا ہوں مگر یہ تکلیف سب خیالی ہے باقی جب آدمی کسی کام یا بات کا ارادہ کرتا ہے پھولوں سے ہلکا رہ کر گزرتا ہے ۔
