ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حالت منکر پر با اختیار اصرار کرنا سبب ہلاکت ہے اور اگر غیر اختیاری حالت ہو تو اس میں وہ معذور ہو گا مگر دوسروں کو اس فعل سے استدلال نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر ایسا کوئی کرے گا تو اس کا یہ فعل با اختیار خود ہو گا اس لیے پہلے شخص کے لیے مضر نہیں مگر دوسرے شخص کے لیے مضر ہے جیسے آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے کہ صاحب حال لوگوں کے افعال و اقوال کو حجت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور خود بھی با اختیار ان چیزوں کے عامل بنتے ہیں ۔ ایسی صورت میں ایک ہی چیز ایک کے لیے مفید ہوتی ہے اور ایک کے لیے مضر ۔ مثال سے سمجھ لیجئے ۔ ایک شخص تندرست ہے اس کے لیے دودھ گھی مفید ہے اور ایک شخص بیمار ہے اس کو بخار آتا ہے اس کے لیے یہی چیزیں مضر ہوں گی اسی کو فرماتے ہیں :
کارپاکاں را قیاس از خود مگیر گرچہ ماندور نوشتن شیر و شیر
اور فرماتے ہیں :
گفت فرعونے انا الحق گشت پست گفت منصورے انا الحق گشت مست
رحمۃ اللہ ایں انار اور وفا لعنۃ اللہ آں انار اور قفا
