ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دوسری قوموں کا جہاں تک صدیوں کے بعد ذہن پہنچ رہا ہے وہ اسلام کا بلکل اول سبق ہے ۔ چنانچہ حقوق کے متعلق ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص سفر میں چلے ، آپس میں یہ طے ہوا کہ ایک امیر ہو ایک مومور ۔ اس شخص کو یہ خیال ہوا کہ میں بزرگ صاحب کے سامنے کیسے امیر بن سکتا ہوں ، لہذا عرض کیا کہ آپ ہی امیر ہیں ، بزرگ نے قبول فرما لیا ، ایک مقام پر پہنچ کر خیمہ گاڑنے کی ضرورت ہوئی ۔ بزرگ صاحب نے اپنے ہاتھ سے خیمہ لگانا شروع کیا ۔ یہ شخص بولا کہ حضرت میں اس کام کو انجام دوں گا ، فرمایا کہ جو میں حکم دوں اس کا اتباع کرو اس لیے کہ میں امیر ہوں لہذا میں حکم کرتا ہوں کہ تم ہاتھ مت لگاؤ ، میں خود خیمہ نصب کروں گا ۔ اب تو یہ شخص بہت پچھتایا کہ بڑی غلطی ہوئی ، میں ہی امیر ہو جاتا تا کہ ان بزرگ صاحب کی خدمت کرنا تو نصیب ہوتی ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سفر میں تھے صحابہ ساتھ تھے ، کھانا پکانے کا انتظام کیا گیا ، سب کام صحابہ نے آپس میں تقسیم کر لیے ، یہ کسی کو یاد نہ رہا کہ لکڑیاں بھی جنگل سے آئیں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جنگل میں تشریف لے گئے اور گٹھ لکڑیوں کا لے کر تشریف لائے ، تب صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ کام کسی کو یاد نہ رہا تو یہ رعایت اسلام کا اول سبق ہے جس پر آج دوسری قومیں نازاں ہیں ۔
