ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات حاضرہ میں بڑا ہی ہڑبونگ لوگوں نے مچایا ، باوجود اس کے کہ باب فتن حدیث شریف میں موجود ہے اور تمام احکام بالتصریح مذکور ہیں اور دونوں نمونے حضور پر گزرے ہیں پھر زیادہ کلام کی گنجائش کہاں ہے بس یہ دیکھنا کافی ہو کہ اگر مظالم سے بچنے پر قادر نہیں ہو اپنے کو مکی سمجھو اور صبر کرو اور اگر قادر ہو مدنی سمجھو اور قدرت سے کام لو ۔ مگر اب تو یہ ہو رہا ہے کہ یا تو مکی کی جگہ مکھی اور ذلیل بنیں گے اور یا مدنی کی جگہ بدنی اور پہلوان بنیں گے اور خطرات میں پھنسیں گے ۔ شارع نے ہر چیز کا انتظام کیا ہے اسی کو سمجھ کر فقہاء نے یہاں تک کیا ہے کہ سردی اور گرمی میں استنجے کے ڈھیلے لینے تک کا طریقہ بتلایا ہے ۔ حقیقت میں امت پر بے حد شفقت کی ہے اور حضرت باپ اگر اپنے بچے کو نہ سکھلاوے تو اور کون سکھاوے ، بہت امور بدون تعلیم محض طبعی طور پر معلوم نہیں ہو سکتے تھے مثلا پیشاب ، پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو ، کس چیز سے استنجا کرو آبدست کس طرح لو یہ چیزیں تو سکھلانے ہی کی تھیں ۔
