ملفوظ 92: دعاء سے زیادہ کوئی وظیفہ مؤثرنہیں

فرمایا ! کہ ایک شخص کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں قرضدار ہوں کوئی موثر وظیفہ بتلا دیجئے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ دعا سے زیادہ کوئی وظیفہ موثر نہیں اسی سلسلہ میں فرمایا کہ لوگوں نے خدا سے مانگنا ہی چھوڑ دیا ـ بندوں کا تعلق حق جل وعلی شانہ سے بہت ہی ضعیف ہو گیا ـ اس باب میں لوگوں کے عقائد نہایت ہی خراب ہیں ـ اور اس میں ایک اور بہت بڑی خرابی ہے وہ یہ ہے کہ اگر وظیفہ سے کام نہ ہوا تو پھر آیات الٰہیہ سے بد گمانی بد عقیدگی ہوتی ہے یہ سب جاہل عاملوں سے کی بدولت ہو رہا ہے ان کے یہاں ہر کام کیلئے وظائف ہی کی تعلیم ہوتی ہے ـ اہل نا اہل بھی نہیں دیکھا جاتا اس کے علاوہ بتلانے کے وقت ایسے طرز سے کہتے ہیں اور ایسا اطمینان دلاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اسی طرح ہوجائے گا اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں اور اگر تقدیر سے اس کے خلاف ہوا تو اس پڑھنے والے کے ایمان کے لالے پڑ جاتے ہیں ـ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ آیات الٰہیہ میں بھی کوئی اثر نہیں پھر ایسی بدگمانی کا مقتضا تو یہ تھا کہ دعا ہر گز قبول نہ ہوتی ـ دیکھئے ! موٹی سی بات ہے اگر ہم کسی کو دو روپیہ مہینہ دیتے ہوں اور اس کی نسبت ہم کو اس کے اقرار سے یہ معلوم ہو جائے کہ اس کو ہماری نسبت بد گمانی ہے کہ اب نہ دیں گے ـ پھر قیامت تک بھی ہم اس کی طرف التفات نہ کریں گے مگر حق تعالی ہیں کہ سب کچھ سنتے ہیں دیکھتے ہیں پھر بھی رزق بند نہیں فرماتے بڑے ہی وحیم و کریم ہیں ـ