فرمایا ! کہ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ ذکر میں مزہ نہیں آتا ـ میں نے کہا کہ مزا تو مذی میں ہے یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو ـ فرمایا کہ کوئی مزے کا طالب ہے کوئی کیفیات کا طالب ہے اگر خدا کے ساتھ تعلق ہو تو اس بے مزگی میں بھی ایک خوش مزگی ہوتی ہے جن کیفیتوں کے لوگ طالب ہیں وہ نفسانی کیفیات ہیں اور مطلوب روحانی کیفیات ہیں ان روحانی اور نفسانی کیفیات میں فرق بڑا ہی مشکل ہے نفسانیات کے در پے ہونے کی ضرورت نہیں یہ کیفیات اور جوش و خروش کچھ عمر نہیں رکھتے ان کے فرو ہونے کے بعد پھر روحانی کیفیت بڑھتی ہے وہ البتہ دائمی ہوتی ہے ان میں ضعف نہیں ہوتا وہ بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے مولانا فرماتے ہیں ؎ خود قومی میشود خمر کہن ٭ خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن ( پرانی شراب ( نشہ لانے میں )زیادہ قوی ہوتی ہے خاص کر وہ شراب جو ( معرفت ) حق کی شراب ہو) دوسرے بزرگ فرماتے ہیں ؎ ہر چند پیر و خستہ و بے بس ناتواں شدم ٭ ہر گہ نظر بروئے تو کردم جواں شدم ( اگرچہ میں بوڑھا خستہ و ناتواں ہو گیا ہوں ( مگر اے محبوب حقیقی ) جب تیرے چہرہ کو دیکھتا ہوں (یعنی آپ کی طرف توجہ خاص ہوتی ہے ) تو جوان ہو جاتا ہوں ) ـ کام میں لگنا چاہئے یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کیفیات بھی ہیں یا نہیں خظوظ اور لذائذ بھی ہیں یا نہیں ـ اور نہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ ہوا یا نہیں اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے گا جیسے پسنہاری رات کو آٹا پیستی ہے مگر اس پیسنے والی کو یہ ملوم نہیں ہوتا کہ آٹا چکی سے گر رہا ہے یا نہیں اور نہ خبر ہوتی ہے کہ کس قدر جمع ہو گیا ہے پیسنے ہی کی دھن میں لگی رہتی ہے صبح کو جب دیکھتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ تمام چکی کے گرد آٹا جمع ہے اگر رات بھر یہ کرتی کہ ایک چکر چکی کا گھما لیا اور ٹٹول کر دیکھ لیا تو پس چکا آٹا اسی میں رہے گی پاؤ بھر بھی آٹا نہیں پیس سکتی ـ میں کہتا ہوں کہ اپنے کو جس کے سپرد کیا ہے اس پر بغیر اعتماد اور انقیاد اور اعتقاد کئے کام نہیں چل سکتا ـ جب جاننے والا یہ کہہ رہا ہے کہ کام ہو رہا ہے بس اطمینان کرنا چاہئے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید ٭ خیرہ یوسف ؑ دارمے باید دوید ( اگرچہ بظاہر عالم میں کوئی راستہ ظاہر نہیں ہے مگر بہ حالت حیرانی یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے ( تو راستہ خود بخود کھلتا اور ملتا چلا جائے گا ) ـ
