فرمایا کہ آج کل یہ نئی نئی چیزیں دنیا میں چل رہی ہیں ۔ خصوص ہندوستان میں آئے دن ایک نیا ترانہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب کی ان میں شرکت ہو ۔ میں کہتا ہوں کہ تم کو ملک کی فکر قوم کا غم اور اہل اللہ کو ایک غم ایسا ہے اور ایک ایسی فکر ہے کہ اگر تم کو بھی وہی غم اور فکر لگ جائے تو واللہ سب جھگڑے بھول جاؤ مگر اس کی تو تم کو ہوا تک بھی نہیں لگی اور وہ لگانے سے لگتی ہے بدوں لگائے تھوڑا ہی لگ سکتی ہے اور وہ فکر اور غم ایسا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ادہم بلخی نے سلطنت ترک کر دی تو وزیر نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ سب ارکان پریشان ہیں پھر چل کر تاج و تخت کو سنبھالئے ۔ فرمایا یہ ظاہر ہے کہ فکر اور غم میں ایسے تعلقات کا حق ادا نہیں کر سکتا اس لیے معذور ہوں ۔ وزیر نے عرض کیا وہ ایسا کیا غم ہے کہ جس کا کوئی علاج ہی نہیں ، وزیر کے اصرار پر فرمایا کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر
( یعنی قیامت میں دو گروہ ہوں گے ایک جنتی اور ایک دوزخی )
یہ بتلاؤ میں کون سے گروہ سے ہوں گا یہ ہے وہ غم اس کا دفع کرو ؟ وزیر نے عرض کیا کہ حضور میں آپ کے غم اور فکر کو کیا دفع کرتا مجھے خود اپنی فکر پڑ گئ ۔ اسی سلسلہ میں بطور جملہ معترضہ کے فرمایا کہ اس فکر کے اثر پر یاد آ گیا ۔ ایک مرتبہ اکبر بادشاہ شب کو محل میں پڑا ہوا تھا ، آرام کا وقت تھا کہ دفعتا عارض کی وجہ سے روشنی گل ہو گئی تو بادشاہ کو قبر کی تاریکی کا خیال آ گیا کہ یہاں پر باوجود یکہ حشم خدم فوج پلٹن سلطنت حکومت سب ہی کچھ ہے مگر روشنی گل ہو جانے سے کوئی اس وحشت کو رفع نہیں کر سکتا تو قبر میںجہاں کچھ بھی نہ ہو گا دو گز گہرا گڑھا اور تنہائی ہو گی وہاں اس اندھیرے میں کیا حشر ہو گا ، صبح کو جو اٹھ کر دربار میں آیا بیربل نے دیکھا کہ بادشاہ کا چہرہ پژمردہ ہے اور ملال کے آثار ہیں ۔ بیربل نے عرض کیا کہ آج حضور کے مزاج کیسے ہیں ، فرمایا کہ آج شب کو یہ واقعہ پیش آیا اس سے یہ خیال قلب پر چھا گیا ہے ۔ بیربل نے عرض کیا کہ حضور یہ کون سی مشکل بات ہے ، میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر مبارک کتنی ہوئی ؟ اکبر نے کہا کہ تریسٹھ سال کی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کو کتنا عرصہ ہوا ، کہا ہزار سال سے زیادہ ، بیربل نے عرض کیا کہ جس ذات نے تریسٹھ سال کے اندر تمام عالم کو منور اور روشن کر دیا اس ذات کو زمین کے اندر گئے ہوئے ہزار سال ہو گئے ، کیا باطن زمین آپ سے منور اور روشن نہ ہوئی ہو گی اور قبور باطن زمین میں ہیں ، ہر امتی کو انشاءاللہ قبر روشن ملے گی ۔ تھا تو بیربل ہندو مگر حقیقت کو کس عجیب عنوان سے بیان کیا ۔ اس قصہ میں دیکھئے اکبر جیسے آزاد شخص کو اس فکر نے کیسا پریشان کر دیا ، غرض اس فکر میں یہی خاصیت ہے ، میں اسی کو کہ رہا تھا کہ اہل اللہ کو وہ فکر اور غم ہے کہ اگر اس کی تم کو ہوا بھی لگ جائے تو تمام غم اور فکر اس کے سامنے گرو ہو جائیں ، واللہ ثم واللہ ان کے دلوں پر ہر وقت آرے چلتے ہیں جن کی آپ کو خبر بھی نہیں پھر ان کو ان فضول جھگڑوں کی کہاں مہلت کہ وہ ان میں پڑیں ان کو اگر اس غم و فکر سے مہلت ہو یا فرصت ہو تو ان غموں کو لے کر بیٹھیں ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست
حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
( تمہارے پیر میں کبھی کانٹا نہیں لگا تو تم ان حضرات کی تکلیف کا کیا اندازہ کر سکتے ہو جو تلواریں کھاتے ہیں )
میں اس کا انکار نہیں کرتا کہ آپ کو فکر نہیں آپ کو بھی فکر ہے مگر فرق اتنا ہے کہ آپ کو دشمن کی فکر ہے اور ان کو محبوب کی فکر ۔ غرض اہل اللہ بے فکر نہیں ان کے دلوں پر فکر اور غم کا پہاڑ ہے جس نے ان کو تمام غموں اور افکار سے بیکار کر دیا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ اس قسم کے تعلقات سے گھبراتے ہیں ۔ مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
خوو چہ جائے جنگ و جدل دینک و بد
کایں ولم از صلحہا ہم می رمد
( بھلے برے کے امتیاز میں لڑائی جھگڑے کی یہاں کہاں فرصت ہے کہ یہ دل تو صلح کی باتوں سے بھی بھاگتا ہے ، یعنی ہر فضول کام سے ۔
)
اور واقعی اگر آپ کو وہ غم اور فکر جو اہل اللہ پر غالب ہے چھو بھی جائے تو پتا پانی ہو جائے ، کیا ملک اور قوم کا ترانہ گاتے پھرتے ہو بھول جاؤ ان قصوں کو اور نکل جاؤ جنگلوں کو ۔
