( ملفوظ 22 ) حزن سے ترقی باطن ہونے کی تحقیق

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حزن سے عبیدت میں شکستگی پیدا ہوتی ہے کہ بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں یا پگھل رہے ہیں اور یہ خود ایک مستقل مجاہدہ بھی ہے اس لیے کہ تکلیف پر اجر کا وعدہ ہے ۔ ایک صاحب کا خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ سفر کی وجہ سے معمولات پورے نہ ہو سکے اور اس پر قلق اور حزن ظاہر کیا تھا میں نے لکھ دیا کہ اصلاح میں جو کمی تھی وہ اللہ تعالی نے اس طرح پوری فرما دی وہ کمی یہ ہے کہ کبھی اس ناغہ نہ ہونے سے اعمال میں عجب پیدا ہو جاتا ہے تو اس ناغہ میں اس عجب سے حفاظت ہو گئی مگر اس سے مراد ہر حزن اور گریہ نہیں بلکہ جس حزن اور گریہ پر اجر ہے وہ ہے جو غیر اختیاری ہو مثلا کوئی مصیبت آ پڑی یا یہ کہ اعمال کے متعلق سعی میں لگا ہوا ہے ، کام کر رہا ہے اور پھر اتفاقا بلا قصد کے اس کے خلاف کا صدور ہو گیا ۔ اس پر حزن ہے غم ہے گریہ ہے یہ وہ حزن جو دس گھنٹہ کا حزن اور گریہ دس برس کے مجاہدہ سے زیادہ کام کا بنانے والا اور فضیلت رکھنے والا ہے ورنہ بجائے سعی اختیاری کے محض گریہ تو اس کا مصداق ہے ۔

عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال

صد سال می تواں بہ تمنا گریستن

( عرفی اگر رونے سے محبوب کا وصل میسر ہو جاتا تو وصل کی تمنا میں سو برس رو سکتے ہیں ۔ )
مگر بیکار یہ بھی نہیں ، گو اتنا بیکار بھی نہیں کہ اس پر اکتفا کر کے اعمال سے تساہل اختیار کر لیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ باوجود قصد تکمیل کے اعمال میں نقص رہ جائے اس پر اجر ہوتا ہے اور یہ بھی اس میں ایک رحمت ہے غور سے سن لیجئے ۔ وہ یہ کہ اعمال میں جو باوجود قصد تکمیل کے کوتاہی رہ جاتی ہے ۔ غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اختیاری ہوتی ہے مگر یہ رحمت ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ اضطراری کے مثل کیا جاتا ہے یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ یہ اختیاری نہیں مگر اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس کو اس وقت اس لیے بیان کر دیا کہ کبھی اس کو بالکل غیر اختیاری سمجھ کر اعمال میں جو کوتاہی کا صدور ہو چکا ہے اس کا موجب نقص نہ سمجھ کر اعمال کو کامل سمجھے اور بے فکر ہو جائے خسران میں پڑے اور میں جو کچھ اس وقت بیان کر رہا ہوں ، یہ سب حضرت حاجی صاحب کا صدقہ ہے ۔ حضرت اس آخر زمانہ میں اس فن کے مجدد تھے ، امام تھے ، مجتہد تھے ، ہر چیز کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے اور زمانہ کےلوگوں کی حالت سے بخوبی واقف تھے مگر باوجود اس طریق میں مجتہد ہونے کے حدود کی اتنی رعایت تھی کہ فتاوے میں علماء سے رجوع فرماتے تھے چناچہ جن لوگوں نے حضرت حاجی صاحب حضرت مولانا گنگوہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب مولانا سے مسائل مسائل پوچھ پوچھ کر عمل کیا کرتے تھے اور مولانا بھی اگر کوئی شخص فتاوی شرعیہ کی معارضہ میں حضرت حاجی صاحب کا کوئی قول یا فعل پیش کرتا تو صاف صاف فرما دیا کرتے تھے کہ حضرت حاجی صاحب کو ان مسائل جزئیہ میں ہمارے فتوے پر عمل کرنا واجب ہے ہم کو ان مسائل جزئیہ میں حضرت حاجی صاحب کی تقلید جائز نہیں اور ہم ان مسائل کی وجہ سے حضرت حاجی صاحب سے مرید تھوڑا ہی ہوئے ہیں وہ اور ہی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم نے حضرت سے بیعت کی ہے اتنا بڑا شخص اتنا بڑا عالم حضرت کے کمالات باطنی کا اعتراف کر رہا ہے ۔ آخر حضرت میں کوئی چیز تو تھی ورنہ اگر حضرت میں کوئی چیز نہ ہوتی تو ایسے لوگ جن کی صاف بیانی کی یہ کیفیت ہے وہ کیا معتقد ہو سکتے تھے ہم کو اپنے بزرگوں کی ان ہی باتوں پر فخر ہے کہ ان کے یہاں ہر چیز اپنے مرتبہ پر رہتی ہے کوئی افراط تفریط نہیں ۔