ملفوظ 214: اعتکاف اور ریح کا مرض فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں اعتکاف کیا کرتا ہوں اور اب مرض ہو گیا ہے ریح کا ـ ایسی صورت میں مسجد میں بیٹھنا یا رہنا اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ اعتکاف نہ چھوڑو اگرچہ ہوا دار ہو ـ اس پر ایک مولوی صاحب نے تبسم آمیز لہجے میں عرض کیا کہ حضرت نہ معلوم وہ کیا سمجھیں گے فرمایا اس سے مراد مسجد کی کھڑکیاں بھی تو ہو سکتی ہیں جو کھلی ہوئی ہوں ان سے ہوا آئیگی اور اعتکاف ہوگا ـ فرمایا کہ اس ہوا پر ایک حکایت یاد آئی ـ یہاں پر ایک حافظ صاحب تھے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے انہوں نے ایک قاعدہ مقرر کیا تھا اور وہ اس وجہ سے کہ لڑکے وہیں پر بیٹھے بیٹھے بدبو پھیلاتے رہتے تھے حافظ صاحب نے پریشان ہو کر حکم دیا کہ باہر جا کر ایسا کرو ـ اب اس کیلئے ضرورت ہوئی اصطلاح کی کہ کیا کہہ کر اجازت لیا کریں ؟
حافظ صاحب نے یہ تجویز فرمایا کہ یہ کہہ کر اجازت لیا کرو کہ چڑیا چھوڑ آؤں بس بچوں کو ایک بات ہاتھ آگئی ہر وقت کا ان کیلئے شغل ہو گیا ایک ادھر سے اٹھتا ہے حافظ جی چڑیا چھوڑ آؤں ایک ادھر سے اٹھتا ہے کہ حافظ جی چڑیا چھوڑ آؤں ـ حافظ جی بے چارے دق آ گئے تب کہا کہ ابے یہیں چھوڑ دیا کرو ـ
