ملفوظ 213: حضرت کی زندگی اور وفات سے متعلق دو خواب

ملفوظ 213: حضرت کی زندگی اور وفات سے متعلق دو خواب فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ 2 رمضان المبارک 1350ھ بروز شنبہ بوقت عشاء ایک شخص نے مجھ سے حضور کی نسبت کہا کہ رحلت فرما گئے اس وقت سے طبیعت پریشان ہے بے حد رنج و صدمہ ہے خدا کرے یہ خبر جھوٹ ہو اور حضور کو اللہ تعالی ہمارے سامنے قائم رکھیں ـ میں نے جواب لکھ دیا ہے کہ ابھی تو ارادہ نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ارادہ سے کیا ہوتا ہے فرمایا یہ میں نے کب کہا ہے کہ ارادہ مؤثر ہے اللہ ہی کے قبضہ میں ہے مگر جی یوں چاہتا ہے کہ ضروری ضروری کام سب ہو جائیں ـ اس پر ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہمارے لئے بڑی خوشخبری ہے یعنی ارادہ نہ ہونا فرمایا کہ یہ تو ایک شاعری ہے ـ عرض کیا کہ شاعری ہو یا کچھ بھی ہو خوش خبری سے خالی نہیں ـ ایک اور مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک طالب علم نے مدرسہ دیوبند میں ایک خواب دیکھا اس میں حضورؐ کی زیارت سے مشرف ہوئے ان طالب علم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ! حضور ! حضرت تھانوی کی کس قدر حیات ہے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ان سے ایک اور خاص کام لینا ہے اس وقت تک حیات ہے ـ احقر جامع کہتا ہے کہ یہ خواب سن کر حضرت والا پر ایک خاص اثر ہوا اور کچھ دیر تک حضرت والا پر سکوت کا عالم رہا اس وقت کی کیفیت کا لطف اہل مجلس ہی سمجھ سکتے ہیں ـ