ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کی بھی عجیب حالت ہے چاہتے یہ ہیں کہ کرنا تو کچھ پڑے نہیں اور کام سب ہو جائیں اور بعض شب و روز اس انتظار میں رہتے ہیں کہ فلاں کام سے فراغت ہو جائے ، فلاں مقدمے سے نمٹ لیں ، فلاں کی شادی سے فارغ ہو جائیں ، تب خدا کی یاد لگیں چونکہ ایسی فراغت میسر نہیں ہوتی اس لیے ایسا شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ، محروم ہی رہتا ہے اور ایک دن موت آ کر کام تمام کر دیتی ہے ، یاس اور حسرت کی حالت میں خسران کی گٹھڑی سر پر رکھے ہوئے اس عالم سے رخصت ہو جاتا ہے ،
کام کرنے کی صورت تو یہ ہی ہے کہ اس آلودگی کی حالت میں خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ اس کی برکت سے فراغ بھی میسر ہو جائے گا ، تمہارا آج کل کرنا ایسا ہے جس کو فرماتے ہیں :
ہر شبے گویم کہ فردا ترک ایں سودا کنم باز چوں فردا شودا امروز را فردا کنم
( ہر رات یہ ارادہ کرتا ہوں کہ کل کو اس گناہ کو چھوڑ دوں گا ، پھر جب کل کا دن ہوتا ہے تو پھر کل ہی کا ارادہ کرتا ہوں )
کس کا فراغ اور کس کا انتظار اور دنیا میں رہتے ہوئے کہاں فراغ یہ نفس و شیطان کا ایک بڑا زبردست کید ہے لوگ رسائی کی تو تمنا کرتے ہیں مگر معلوم بھی ہے کہ رسائی کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں جن میں پہلی شرط یہ ہے تم برے ہو یا بھلے اس طرف متوجہ ہو جاؤ ۔ پھر رحمت حق تم کو خود بخود جذب کرے گی ۔ طالب کی شان تو یہ ہونا چاہیے جیسے مولانا فرماتے ہیں :
اندریں رہ می تراش و می خراش تادم آخر دمے فارغ مباش
تادم آخر دمے آخر بود کہ عنایت باتو صاحب سر بود
( راہ سلوک میں نشیب و فراز بہت ہیں ۔ لہذا آخر دم تک ایک لمحہ کیلئے بھی غافل مت ہو ۔ آخر وقت تک آخر کار ایک لمحہ ایسا ہو گا کہ تم پر حق تعالی کی عنایت ہو ہی جائے گی ۔)
ذرا کام میں تو لگ کر دیکھو تمہاری اس ٹوٹی پھوٹی ہوئی متاع کو کیسے قبول فرماتے ہیں ۔ اس کو بھی مولانا فرماتے ہیں :
خود کہ یا بد ایں چنیں بازار کہ بیک گل می خسری گلزار را
( ایسا بازار جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا کا پورا باغ مل جاتا ہو ، ہر کسی کو نہیں ملتا )
صاحبو ! جو لوگ اس آرزو میں بیٹھے ہیں کہ فراغ میسر ہو تو خدا کی یاد میں لگیں بے فکری ہو تو اس طرف متوجہ ہوں یہ غیر ممکن ہے بدون تعلق بحق کے بے فکری غیر ممکن ہونے پر ایک قصہ یاد آ گیا ۔ ایک شخص تھا اس کو خضر علیہ السلام سے ملنے کی بے حد تمنا تھی ، ایک بار ملاقات ہو گئی ، فرمایا ملاقات سے تیری کیا غرض ہے ۔ اس نے عرض کیا کہ حضرت میرے لیے دعا کر دیجئے کہ میں دنیا میں بے فکر ہو کر زندگی بسر کر سکوں ۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کی صورت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ کسی شخص کو منتخب کر کے دعا کرا لے کہ تو ایسا ہو جائے جیسا فلاں
شخص اس نے منظور کیا اور مدت کے بعد ایک جوہری کو منتخب کیا جس کو ظاہرا کوئی فکر اور غم نہ تھا اور تمام سامان عیش اس کو میسر تھا ارادہ کیا اس کی سی حالت کی دعا کرا لوں ۔ پھر خیال کیا کہ خود اس سے تو پوچھ لوں کبھی ایسا نہ ہو کہ کسی مخفی مصیبت میں مبتلا ہو اور میں بھی اسی میں مبتلا ہو جاؤں ۔ آخر اس سے مل کر پوچھا کہ یہ واقعہ ہے اور میں خضر علیہ السلام سے یہ دعا کرانا چاہتا ہوں اس لیے تمہاری حالت تحقیق کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے ایک آہ بھری اور کہا کیا پوچھتے ہو جائداد بھی ہے ، مال بھی ہے ، جاہ بھی ہے ، عزت بھی ہے مگر ایک ایسی مصیبت میں گرفتار ہوں کہ خدا دشمن کو بھی نہ دے اور قصہ بیان کیا کہ مجھ کو اپنی بیوی سے محبت بدرجہ عشق تھی وہ بیمار ہو گئی میں رونے لگا ، اس نے کہا کہ تم خواہ مخواہ روتے ہو میرے بعد دوسری شادی کر لو گے ، میں نے یقین دلایا کہ ہر گز ایسا نہ ہو گا ، اس نے کہا سب باتیں ہی ہیں ، میں نے اس کو یقین دلانے کیلئے اپنا عضو مخصوص کاٹ کر اس کے سامنے رکھ دیا ، کہ لے اب تو یقین آ گیا پھر وہ اچھی ہو گئی ، اب جو غم مجھ کو ہے بیان نہیں کر سکتا ، اتفاق سے پھر خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اس نے عرض کیا کہ حضرت واقعی دنیوی زندگی بے فکری کی نہیں ہو سکتی ۔ اب دعا کر دیجئے کہ اللہ تعالی آخرت درست کر دے ۔
