( ملفوظ 138 ) مسلمان خود خرابیوں کے ذمہ دار ہیں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعضے ہمارے بھائی دوسروں پر الزم رکھتے ہیں کہ فلاں قانون تکلیف کا ہے فلاں آئین سے نماز کی فرصت نہیں ملتی لیکن اصل یہ ہے کہ سب خرابیوں کے ذمہ دار خود مسلمان ہی ہیں یہ خود ہی احکام سے اعراض کیے ہوئے ہیں پھر جب خود ہی ان کے قلوب میں احکام شرعیہ کی وقعت و عظمت نہیں اور خود ہی ان کی پابندی و احترام نہیں کرتے تو دوسری قومیں کیا احترام کریں گی اور ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے مثلا نماز کی پابندی مسلمانوں میں نہیں ، داڑھی منڈانا ان کا شعار ہو گیا ، دوسری قومیں بعض ایسی چیزوں کی پابند ہیں جو بظاہر نہایت دشوار ہیں مگر چونکہ ایک قوم کی قوم اس کی عامل اور پابند ہے اس میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتا حتی کہ حکومت بھی کسی قسم کی دست اندازی نہیں کرتی ۔ دیکھ لیجئے سکھوں کی قوم کو وہ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں ان پر نہ پولیس میں نہ فوج میں کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا ، حضرت ہماری شکایت واقع میں اپنا قصور دوسروں کے سر منڈھنا ہے اگر مسلمان فی الحقیقت مسلمان بن جائیں تو پھر آپ دیکھیں کہ ایک دم کایا پلٹ ہو جائے اور سب ان کے سامنے سر جھکا دیں ۔ ایک سیاح انگریز کا واقعہ ہے اس نے ایک رسالہ فضائل اسلام پر لکھا ہے یہ رسالہ ترجمہ ہو کر ندوہ کے ایک پرچہ میں نکلا تھا ۔ اس انگریز نے عرب کی بھی سیر کی ہے ۔ یہ جب عرب پہنچا ہے تو اس نے چند بدوی ملازم رکھے جو سفر میں اس کے ہمراہ بطور رہنما کے چلتے تھے ، آگے آگے یہ انگریز ہوتا تھا ، پیچھے پیچھے بدوی سب گھوڑوں پر سوار ہوتے تھے ، ایک مرتبہ سب سوار گھوڑوں پر چلے جا رہے تھے کہ ایک مقام پر پہنچ کر نماز کا وقت ہو گیا ، ان بدوؤں نے بدون اس انگریز کی اطلاع یا اجازت کے دفعتہ گھوڑے روک لیے اور اتر کر وضو کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی ۔ انگریز نے پشت کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ گھوڑے کھڑے ہیں اور بدوی صف باندھے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ اس انگریز کے سامنے نماز پڑھنے کا یہ پہلا موقع تھا وہ اس رسالہ میں لکھتا ہے کہ میں اس وقت ان کی صف سے الگ کھڑا ہوا خود اپنی نظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا اپنے آقا کا سرکش غلام ہوں اور یہ فرمانبردار ہیں یہ شریف ہیں اور میں ذلیل ہوں اس وقت ایک کتے سے بدتر میں اپنی حالت کو پاتا تھا اور بے اختیار دل چاہتا تھا کہ میں بھی ان کی صف میں داخل ہو جاؤں ۔ پھر لکھتا ہے کہ اس ہی روز سے اسلام کی محبت میرے دل میں جگہ کر گئی اور فضائل اسلام پر یہ کتاب تصنیف کی ۔ اس واقعہ سے سبق مسلمانوں کو حاصل کرنا چاہیے ، اگر یہ خود احکام اسلام اور شعائر اسلام کے پابند ہو جائیں ، دوسروں پر خود بخود اثر ہو یہ بھی ایک نہایت زبردست تبلیغ ہے اسلام کی ۔ ایک پادری نے لکھا ہے مسلمانوں میں بڑا امتیاز یہ ہے کہ اپنے مالک کے سامنے شرمندہ نہیں سرخرو ہیں بخلاف دوسری قوموں کے غرض دوسروں کو بھی اسلام کی خوبیوں کا اقرار ہے مگر آج کل خود مسلمانوں ہی نے تعلیم اسلام کو بدنام کیا ہے ۔ اسلام مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر بزبان حال یوں کہتا ہے :
خندہ اہل جہاں کی مجھے پروا کیا تھی تم بھی ہنستے ہو مرے حال پہ رونا ہے یہی
3 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنج شنبہ