فضول علمی تحقیق اور عمل سے غفلت فرمایا ! کہ بعض اہل علم بھی آجکل بہت زائد فضولیات میں وقت بے کار کھوتے ہیں ضروریات سے غفلت ہے علمی تحقیقات بھی وہ کرتے ہیں جن کی تحقیقات سے کوئی نتیجہ نہیں آدمی کو ضروری کاموں میں لگ جانا چاہئے اور سب میں ضروری کام آخرت کی فکر ہے اگر ساری عمر بھی غیر ضروری چیزوں کو پتہ نہ لگے تو وہاں پر اس کا کوئی مواخذہ نہیں محاسبہ نہیں ـ ہاں یہ پوچھا جایئگا کہ کچھ کیا بھی یا نہیں ـ ایسی تحقیقات صرف علماء کا ایک مشغلہ ہے اور اس مشغلہ کی حقیقت اس سے زائد نہیں جیسے مریخ کی تحقیق میں لوگ پڑے ہوئے ہیں اور ہم خیال کرتے ہیں اس میں اور اس میں فرق ہی کیا ہے حضرت جس کو جو کچھ عطا ہوا ہے وہ عمل ہی کی بدولت تو ساری عمر اسی ادھیڑ بن میں لگا رہنا چاہیے کسی وقت بھی عمل سے بے فکر نہ ہونا چاہئے وہاں ان تحقیقات کو پوچھتا کون ہے ان تحقیقات پر ایک مثال یاد آئی ـ بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے طالب علموں کے کورس میں اقلیدس جس کی حقیقت سب جانتے ہیں کہ بعضوں کو عمر بھر بھی اس سے کام نہیں پڑتا ـ پس اگر ساری عمر بھی اس علم کو حاصل نہ کرے اور ایک شکل بھی اقلیدس کی نہ معلوم ہو حرج کیا ہے ـ اس اقلیدس کی شکل پر بیچ میں ایک حکایت یاد آ گئی ـ ماموں امداد علی صاحب رڑکی میں تھے بارش ہوئی کیچڑ ہو رہی تھی ـ ایک صاحب چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے جلدی جلدی چل رہے تھے ماموں صاحب بڑے ظریف تھے کہا کہ میاں سنبھل کر چلو کبھی گرنہ جاؤ ـ جواب میں کہتے ہیں کہ میں اقلیدس کے قاعدہ پر چلتا ہوں گر نہیں سکتا ـ اتفاق سے پیر پھسل گیا گر گئے ـ ماموں صاحب فرماتے ہیں کہ کیوں حضرت کون سی شکل بنی ـ رڑکی ہی کا ایک اور قصہ ماموں صاحب کا یاد آیا ـ دو واعظ ملے اتفاقی بات کہ دونوں موٹے تھے ـ اور پیٹ دونوں کے بڑے بڑے تھے ـ ملاقات کے وقت معانقہ کرنے لگے تو سینہ سے سینہ مشکل سے ملا ـ ماموں صاحب کیا فرماتے ہیں مولانا یہ تومعانقہ نہ ہوا مباطنہ ہو گیا یعنی پیٹ سے پیٹ مل گیا ـ فرمایا کہ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ تحقیقات میں کچھ نہیں رکھا ضرورت عمل کی ہے چاہے وہ گھٹیا ہی درجہ کا ہو جیسے روٹی اچھی پکی ہوئی ہو ـ سنکی ہوئی اچھی ہو ـ چاہے وہ چھوٹی سی ٹکیہ ہی ہو اس سے کام چل جاتا ہے ـ
