( ملفوظ 227 ) فکر ہو تو غلطیاں کم ہوتی ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فکر انسان کی اختیاری چیز ہے اگر فکر ہو غلطیاں کم اور ہلکی ہوتی ہیں ۔ مربی قرائن سے یا نور بصیرت سے معلوم کر لیتا ہے کہ اس نے اہتمام کیا تھا پھر غلطی ہو گئی مگر اب بے فکری ہے اس پر چشم پوشی نہیں ہوتی ۔ ایک مولوی صاحب مدرس اول متقی یہاں آئے تھے کھانا آیا ، انہوں نے ایک اور شخص کو کھانے کے لیے بٹھا لیا ، پروا نہیں حالانکہ شریعت کے خلاف تھا عرف کا اتنا غلبہ ہو گیا ہے ۔ عبدالستار نے کہا کہ مولانا یہ تو جائز نہیں کیونکہ کھانا آپ کی ملک نہیں صرف آپ کے لیے بھیجا گیا ہے اور زیادہ بھیجا گیا ہے تا کہ مہمان کو کمی نہ ہو ، یہ سن کر بھی اس شخص کو نہیں اٹھایا ، صرف یہ کہا اچھا ہم پوچھ لیں گے ، مجھے اطلاع بھی ہوئی میں ان کے پوچھنے کا منتظر رہا مگر انہوں نے نہیں پوچھا ، آخر مجھ کو ہی کہنا پڑا ۔ یہ حالت لکھے پڑھوں کی ہے دوسروں کی اصلاح کی کیا امید کی جا سکتی ہے ۔