( ملفوظ 228 )آج کل کے مشائخ کی مخلوق پر نظر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ساری خرابیاں اس وجہ سے ہو رہی ہیں کہ جو مصلح اور مشائخ کہلاتے ہیں ان کو بھی طالبوں کے حال پر توجہ نہیں چاہتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں کمالات میں کوئی کمی نہ آ جائے ، میرے نزدیک وہ شیخ خائن ہے رہزن ہے جو اللہ کی مخلوق کی راہ مارے اور اپنے اغراض اور مصالح کی بناء پر طالبین کی اصلاح و تربیت نہ کرے ان لوگوں نے دکانیں جما رکھی ہیں ، ہر وقت اس کی فکر ہے کہ کوئی ہم کو برا نہ کہے کوئی غیر معتقد نہ ہو جائے ، اچھی خاصی دین فروشی اور مخلوق پرستی ہے سو ایسے لوگ خود ہی گمراہ ہیں ، دوسروں کو کیا راہ بتائیں گے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب آنے والوں کی بری عادت پر روک ٹوک نہ کرو گے ان کی اصلاح نہ کرو گے تو پھر تم ہو کس مرض کی دوا ، غرض بے فکری کے مرض سے اس وقت مشائخ بھی خالی نہیں ۔ الا ماشاء اللہ یہ سب فساد بے فکری کی بدولت ہو رہا ہے ۔ اگر اپنی عاقبت کی اور دین کی فکر ہو تو ایسا ہر گز نہ کریں اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خلاف شرع بکواس لگاتے ہیں بڑیں ہانکتے ہیں اور وہ رموز و اسرار سمجھے جاتے ہیں اشرار کا نام اسرار رکھا ہے ۔ احکام شرعیہ میں تحریف کرتے ہیں اور فن تصوف کی تو وہ گت بنائی ہے کہ الامان و الحفیظ مگر اب تو کچھ آنکھیں کھل گئی ، اللہ کا شکر ہے اب بہت کم لوگ ان کے جال میں پھنستے ہیں ۔