( ملفوظ 279 ) فضول سوالات کا مرض عام ہو گیا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل فضول سوالات کرنے کا مرض قریب قریب عام ہو گیا ہے ۔ شاہ جہاں پور میں ایک طالب علم نے مجھ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو شفاعت کا اذن ہو چکا یا وہاں پر ہو گا ، میں نے کہا کہ اس تحقیق سے فائدہ کیا کہا کہ ویسے ہی پوچھتا ہوں ، میں نے کہا آخر اس سوال کی غایت کیا ہے یہ تو معلوم ہے کہ شفاعت ہو گی اور یہ بھی معلوم ہے کہ بعد اذن کے ہو گی ۔ اب یہ کہ یہاں اذن ہو چکا یا وہاں ہو گا ۔ اس سوال کی کیا ضرورت پیش آئی ، مولوی مسیح الزمان خاں شاہ جہان پوری بڑے ہی ظریف تھے ، وہ بھی تشریف رکھتے تھے ، کہنے لگے کہ بڑا فائدہ ہے اگر ان کو یہ تحقیق ہو گئی کہ اذن ہو چکا ، تب تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے اور اگر یہ معلوم ہوا کہ ابھی نہیں ہوا تو یہ بھی درخواست کریں گے ۔ شاید ان کے حق میں قبول ہو جائے وہ طالب علم بہت شرمندہ ہوا اور پھر سوال نہیں کیا ، اس قسم کے سوالات کرنا فضول وقت کو برباد کرنا ہے ۔