ملفوظ 240: غیر مقلدی کا انجام سر کشی اور گستاخی

ملفوظ 240: غیر مقلدی کا انجام سر کشی اور گستاخی ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فقہاء رحمتہ اللہ علیہ نہ ہوتے تو سب بھٹکتے پھرتے وہ حضرات تمام دین کو مدون فرما گئے فرمایا واقعی اندھیر ہوتا یہ غیر مقلد بڑے مدعی ہیں اجتہاد کے ـ ہر شخص ان میں کا اپنے کو مجتہد خیال کرتا ہے ـ میں کہا کرتا ہوں کہ اس کے موازنہ کی آسان صورت یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے تم بھی استنباط کرو ـ ان مسائل کو جو فقہاء کی کتابوں میں تم نے نہ دیکھی ہوں اور پھر فقہاء کے استنباط کئے ہوئے انہی مسائل سے موازنہ کرو ـ معلوم ہو جائیگا کہ کیا فرق ہے کام کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کام کس طرح ہوتا ہے فرمایا کہ یہ غیر مقلدی نہایت خطر ناک چیز ہے اس کا انجام سر کشی اور بزرگوں کی شان میں گستاخی یہ اس کا اولین قدم ہے ـ

اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص دہلی آیا تھا اس وقت دہلی میں گورنمنٹ نے جامع مسجد میں وعظ کہنے کی ممانعت کردی تھی بہت جھگڑے فساد ہو چکے تھے ـ اس شخص کی کوشش سے وعظ کی بندش ٹوٹ گئی اس نے خود وعظ کہنا شروع کیا اس کا عقیدہ تھا کہ نماز تو فرض ہے مگر وقت شرط نہیں میں نے بھی اسکا وعظ سنا تھا بڑا پکا اور کٹر غیر مقلد تھا وعظ میں کہا تھا :وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینا ھم فھم لا یبصرون ـ اور ترجمہ یہ کیا تھا کہ کردی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار یعنی صرف کی اور پیچھے ایک دیوار یعنی نحو کی ـ اور چھا لیا ہم نے ان کو یعنی منطق سے پس ہو گئے وہ اندھے یعنی ان علوم میں پڑ کر حقیقیت سے بے خبر ہو گئے ـ غرضیکہ صرف و نحو و منطق کو بدعت کہتا تھا مگر ایک جماعت اس کے ساتھ اور اس کی ہم عقیدہ ہو گئی تھی یہ حالت ہے عوام کی ان پر بھروسہ کر کے کسی کام کو کرنا سخت نادانی اور غفلت کی بات ہے ان کے نہ عقائد کا اعتبار نہ ان کی محبت کا اعتبار نہ مخالفت کا اعتبار ـ جو جی میں آیا کر لیا جس کے چاہے معتقد ہو گئے ـ دہلی جیسی جگہ کہ وہ اہل علم کا گھر ہے بڑے بڑے علماء بزرگان دین کا مرکز رہا ہے مگر جہالت کا پھر بھی بازار گرم اور کھلا ہوا ہے کیا اعتبار کیا جائے کسی کا ـ وقت پر حقیقت کھلتی ہے جب کوئی کام آ کر پڑتا ہے یا ایسا کوئی راہزن دین کا ڈاکو گمراہ کرنے کھڑا ہو جاتا ہے ہزاروں برساتی مینڈک کی طرح نکل کر ساتھ ہو لیتے ہیں ـ