ملفوظ 241: مجذوب اور مجنون میں امتیاز ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مجذوب اور مجنون میں آجکل امتیاز مشکل ہو گیا ـ فرمایا بالکل صحیح ہے کوئی مجذوب ہوتا ہے کوئی مجنون ہوتا ہے اہل ادراک کو پہچان ہوتی ہے اس پر ایک واقعہ یاد آیا کہ بزرگوں سے سنا ہے کہ دیو بند میں حضرت مولانا محمد تعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ مجذوبین کی جماعت کے سردار تھے جس کی تائید بھی ایک واقعہ سے ہوتی ہے کہ ایک ولایتی مجذوب دیوبند میں وارد ہوئے اور چھتہ کی مسجد میں ٹھہرے مگر ٹھہرنے کی
حضرت مولانا سے اجازت لی ـ پھر فرمایا کہ ہم لوگ طالب علم ان مجذوب سے بعض کفار کیلئے بد دعا کرایا کرتے تھے مگر وہ کبھی جواب نہ دیتے صرف یہ کہہ دیتے کہ خیر باشد خیر باشد پھر وہ مر گئے ـ بعد میں اپنے بعض بزرگوں سے معلوم ہوا کہ وہ بعض کفار کے طرفدار تھے اس طرفداری پر فرمایا کہ مجذوبین کی مثال ملائکہ کی سی ہے کہ وہ کفار کی بھی تربیت کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ وہ گو اس عالم کے اعتبار سے بے سمجھ ہوتے ہیں مگر ان کو اس سمجھ کی ضرورت نہیں دوسری سمجھ کی ضرورت ہے وہ ان میں ہوتی ہے اور میں نے جو اس عالم کے اعتبار سے سمجھ کی نفی کی ہے ـ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جماعت میں عقل نہیں ہوتی گو حواس درست ہوں جیسے گھوڑے میں مثلا عقل نہیں ہوتی مگر حواس ہوتے ہیں ـ یا بچہ کی مثال بلوغ سے پہلے کہ اس وقت عقل نہیں ہوتی مگر حواس ہوتے ہیں تو سلامت حواس مذوبیت کے منافی نہیں ـ نہ اس سلامت حواس پر نماز وغیرہ کے فرض ہونے کا مدار ہوتا ہے اس کی فرضیت کیلئے عقل شرط ہے پس مجنون اسی طرح مجذوب عقل نہ ہونے کی وجہ سے احکام شرع کا مکلف نہیں ہوتا باقی ان دونوں جماعت میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے ـ یہ بہت ہی نازک مقام ہے کہ ہر مجذوب اور مجنون میں فرق کر لیا جائے مگر اس کا ظنی معیار یہ ہے کہ اس مجذوب کے زمانہ کے صلحاء اتقیاء کا جو برتاؤ اس کے متعلق ہو وہ متعبر ہے ـ عوام کا خیال اس بارہ میں معتبر نہیں ـ یعنی اس زمانہ کے مشائخ جو اس کیساتھ برتاؤ کریں احترام کا یا اعراض کا وہی دوسروں کو کرنا چاہئے اپنی رائے سے عوام کچھ نہ کریں پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اول تو اس جماعت سے کوئی امید نہیں نفع کی نہیں رکھنا چاہئے حتی الامکان ان لوگوں سے الگ ہی رہنا مناسب ہے کیونکہ ان کو عقل تو ہوتی نہیں اس لئے ان سے اندیشہ ضرر ہی کا غالب ہوتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نےعرض کیا کہ حضرت اس کی حقیقت کیا ہے یہ جذوب کیسے ـ ہو جاتے ہیں فرمایا کہ حقیقت اس کی یہ ہے کہ کوئی وارد ایسا قوی ہوتا ہے جس سے عقل مسلوب ہو جاتی ہے اور یہ سب مجاہدہ ہی کی برکت ہے کہ یہ درجہ نصیب ہو جاتا ہے پہلے سے کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہ کرتے کیا تھے اسی وارد سے پیالہ جھلک گیا تب سب نے دیکھ لیا یہ حقیقت ہے مجذوبیت کی اور یہی مجذوب ہیں جن کے سپرد کار خانہ تکوینیہ ہے اور اس کے انتظام کے ذمہ دار ہیں ـ باقی جو اہل ارشاد ہیں وہ نائب رسول ہیں وارثان پیغمبر ہیں ـ ان کی شان کہیں ارفع و اعلی ہے ـ اصل چیز اللہ رسول کی اطاعت ہے باقی کشف و کرامات وغیرہ یہ چیزیں کوئی کمال نہیں ایسے عجائب اہل باطل سے بھی صادر ہو جاتے ہیں ـ چنانچہ امریکہ یا جرمن میں ایک شخص کی بیوی کا انتقال ہوا وہ اس کو بہت چاہتا تھا اس لئے اس کو خیال ہوا کہ دفن سے پہلے اس کا فوٹو لے لیا جائے تاکہ دل بہلانے کا مشغلہ باقی رہے اس نے فوٹو لیا بجائے ایک فوٹو کے پانچ فوٹو آ گئے ایک تو اس کی بیوی کا تھا اور چار اور تھے پھر ان چار میں دو کو تو پہچانا وہ بھی مردہ تھے اور دو کو نہیں پہچانا ـ انہوں نے اس سے یہ تحقیق کی ہے کہ اور روحیں رہاں موجود تھیں ان کا فوٹو آ گیا ہے مگر نہایت عجیب بات ہے کہ غیر مرئی کا فوٹو آ کیسے گیا ـ دیکھئے ! یہ چیزیں اہل باطل بھی کر لیتے ہیں اس لئے اہل حق نے کہا ہے کہ اطاعت اللہ و رسول کی ہی اصل چیز ہے ـ 10 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شن
