( ملفوظ 176 )گالیوں سے رنج تو ہوتا ہی ہے

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے ان صاحب نے پہلے تو گالیاں دے لیں ، اب بہلا پھسلا کر فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں ، میں انتقام نہیں لیتا مگر رنج کی بات سے رنج تو ہوتا ہی ہے اور ہم لوگوں کی تو حقیقت ہی کیا ہے کہ رنج نہ ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت وحشی کے ساتھ کیا معاملہ کیا یہ فرمایا کہ ساری عمر صورت نہ دکھانا مگر ہم کو کہا جاتا ہے کہ صاحب معاف کر دینا چاہیے ۔ ان کے باوا کے غلام ہیں کہ گالیاں بھی کھائیں اور چاپلوسی بھی کریں ، ہاں اس حالت میں بھی اس کی ضرورت کا انتظام کر سکتے ہیں ۔ مثلا ایک شخص سے ناراضگی ہو گئی اور اس سے کہہ دیا کہ صورت مت دکھانا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے فلاں جگہ یا فلاں شخص سے اپنی اصلاح کراؤ ۔