ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں راہ پر لاتا ہوں اس لیے کبھی طالب سے تنقیحی سوالات کی حاجت ہوتی ہے اس پر کہتے ہیں کہ سوال پر سوال کیے جاتے ہیں اگر کوئی سمجھ دار ہو وہ تو آ کر میرے پیر دھو دھو کر پئے ، گو میں پینے نہ دوں مگر ان کو تو تیار ہو جانا چاہیے ، فرمایا کہ گھر بیٹھے سب کچھ بننا چاہتے ہیں شان بھی باقی رہے اور سب کچھ ہو بھی جائے ، کیسے ممکن ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
چوں نہ داری طاقت سوزن زون از چنیں شیر ژیاں بس دم مزن
دربہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
