ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب آدمی بار بار اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتا ہے مصلح پر اس کا اثر ہوتا ہی ہے اور ایسے شخص کی اصلاح کی امید ہوتی ہے بخلاف اس شخص کے کہ جو اپنی کوتاہیوں کا اقرار نہ کرے بلکہ تاویل سے کام لے اور سخن پروری کرے ، اس کی اصلاح کی امید نہیں نہ مصلح کی اس پر توجہ ہوتی ہے ۔
