ایک صاحب نے خط کے پتہ پر صرف حکیم الامت لکھا تھا اس پر حضرت والا نے جواب میں لکھا کہ کیا حکیم الامت میرا نام ہے اور آپ کو کس دلیل سے یہ ثابت ہو گیا کہ ڈاک خانہ والے مجھے اس لقب سے پہچان لیں گے ۔ فرمایا کہ آج ان صاحب کا خط آیا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی معافی کا خواستگار ہوں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ادب کی وجہ سے نہیں لکھ سکے ، فرمایا کہ ادب کی وجہ سے پھر خط بھی کبھی نہ آئے اور نہ خود کبھی آئیں گے کہ میری کیا مجال ہے کہ میں کچھ لکھ سکوں یا حاضر ہو سکوں ۔ ایک پہلو پر تو نظر جاتی ہے دوسری جانب کا احتمال ہی نہیں ہوتا ، نظر محیط ہونی چاہیے یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب رسم کے ماتحت ہے اور کچھ نہیں محض تکلفات ہیں ، لوگوں میں عجمیت غالب ہے حلانکہ عربیت ہونا چاہیے ۔
