( ملفوظ 244 )گورنمنٹ سے ڈرنے کا الزام اور اس کا جواب

ملقب بہ اصلاح المخبوط بالقول المضبوط ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل تو ایسی گڑبڑ ہو رہی ہے کہ اہل علم تک غلط مسائل بتانے لگے اور احکام شرعیہ میں تحریف کرنے لگے ۔ فرمایا کہ جی ہاں بے سری فوج ایسی ہی ہوا کرتی ہے ہر شخص آزاد ہے کوئی سر پر تو ہے نہیں جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے ، احکام شریعت کو اپنے اعراض و مقاصد کا آلہ کار بنا رکھا ہے ۔ یہ سب خرابیاں قلب میں خدا کی خشیت نہ ہونے سے ہو رہی ہے ۔ عرض کیا کہ بتلانے اور سمجھانے پر یہ جواب دیتے ہیں کہ تم پرانے خیال کے ہو ، اب وہ زمانہ نہیں رہا ، اب زمانہ ترقی کا ہے ، فرمایا کہ پرانی تو بہت چیزیں ہیں ان کو بھی چھوڑ دینا چاہیے ، زمین بھی پرانی ہے ، آسمان بھی پرانا ہے اور اس میں جو ستارے ہیں مثلا چاند ہے سورج ہے یہ بھی پرانے ہیں ، ان سے بھی انتفاع نہیں کرنا چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے ایک مسٹر کی بے پردگی کی حمایت پر ایک رسالہ نظم میں لکھا ہے اس کا نام مسٹر اور ملا کی نوک جھونک ہے اس میں کچھ اشعار مسٹر نے پرانی ہی پاتوں کی تحقیر پر لکھے ہیں ۔ خواجہ صاحب نے ان اشعار کا خوب جواب دیا ہے وہ اشعار مجھ کو یاد نہیں ، بڑے مزے کے اشعار ہیں ۔ ( احقر جامع عرض کرتا ہے کہ مسٹر کے بعد وہ اشعار جن میں پرانے لوگوں کی اور پرانی دلیلوں کی تحقیر کی ہے یہ ہیں :
پرانی یہ دلیلیں ہیں نہیں ان میں اثر باقی نہ ہونا دیکھ اب اس راہ میں سرگرم جولانی
مرے مردوں کو سونے دے نہ قبریں کھود اب انکی ہوئی مدت کہ رخصت ہو چکا دنیا سے خاقانی
اس کے جواب میں خواجہ صاحب کے اشعار حسب ذیل ملاحظہ ہوں ۔ فرماتے ہیں :
پرانی جو دلیلیں تھیں نہ سمجھا تھا اثر جن میں نئی تیری دلیلوں پر انہیں سے پھر گیا پانی
پرانوں کی ذرا تو سوچ کر تحقیر کر مسٹر پرانے تو بہت سے ہیں نہیں صرف ایک خاقانی
پرانا تیرا پردادا پرانی تیری پردادی پران تیرا پرنانا پرانی تیری پرنانی
پرانے چاولوں کو پا نہیں سکتے نئے چاول پکالے ان سے خشکہ پک نہیں سکتی ہے بریانی
جو ہے ایسی ہی نفرت ہر پرانی چیز سے تجھ کو نہ اس دنیا میں بھی رہ بنا اک عالم ثانی
( احقر جامع 12 منہ ) کہتے ہیں یہ ترقی کا زمانہ ہے تو گویا سلف سے اس وقت تک تنزل
ہی رہا نالائقوں کو خبر نہیں کہ مسلمانوں کی اصل ترقی کیا ہے ۔ دوسری قوموں کی ترقی کو اپنی ترقی کا بھی معیار سمجھنے لگے ، اگر ملک اور مال جاہ ثروت ہی ترقی کا معیار ہیں تو پھر شداد نمرود ، فرعون ، ہامان ، قارون تو انبیاء علیہم السلام سے بھی بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے خدا معلوم ان بد فہموں کی عقلوں کو کیا ہو گیا ، سمجھتے ہی نہیں ارے مسلمانوں کی ترقی کا معیار ہے دین اگر دین درست ہے اور اللہ راضی ہے یہ ان کی ترقی ہے اور اگر دین درست نہیں اور اللہ ناراض ہے تو تنزل ہے آخر کفر اور اسلام میں فرق ہی کیا ہوا ، ہاں اگر دین کے ہوتے ہوئے دنیا بھی تمہارے پاس ہو تو کون منع کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے اشاعت دین تبلیغ دین میں امداد ملے گی پھر وہ دنیا دنیا ہی نہ ہو گی بلکہ عین دین ہو گا ۔ فرمایا کہاں تک بیان کروں اہل علم ہی کی بدولت عوام زیادہ گمراہی میں پھنسے ۔ تحریک خلافت کے زمانہ میں وہ ہر بونگ مچایا کہ الاماں الحفیظ نہ احکام کی پرواہ نہ حدود کی رعایت جو جی میں آیا کیا جو منہ میں آیا بکا ، مجھ پر ہی قسم قسم کے بہتان باندھیں گے ، الزام لگائے گئے ایک صاحب نے میری نسبت میرے ایک دوست سے کہا کہ گورنمنٹ سے تنخواہ پاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا اس سے تو معلوم ہو گیا کہ اس کو گورنمنٹ سے خوف تو نہیں ورنہ تنخواہ دینے کی کیا ضرورت تھی ہاں طمع ہے تو اس کا بہت سہل علاج یہ ہے کہ گورنمنٹ تین سو روپیہ ماہوار دیتی ہے تم پانچ سو روپیہ دے کر دیکھو ۔ جب طمع ہی ٹھری تو تمہارے ساتھ ہو جائیں گے ۔ ایک مولوی صاحب سے سوال کیا گیا کہ سچ مچ جیسا زبان سے کہہ رہے ہو ایسا ہی دل میں بھی سمجھتے ہو کہ حاشا و کلا پوچھا گیا کہ پھر کیوں ایسا کہتا ہو تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اپنی آواز کو زور دار بنانے کیلئے یہ صاحب عالم تھے ، واعظ تھے اور دین اور دیانت کی یہ کیفیت ذرا غور کیا جائے یہ بھی اس زمانہ میں کہا گیا کہ ان کے چھوٹے بھائی سی آئی ڈی میں ہیں ۔ انہوں نے ڈرا رکھا ہے کسی کو کیا خبر وہ خود نہیں ڈرے وہ مجھے کیا ڈراتے ، ایک وقت میں میری نسبت یہ بھی شہرت دی گئی کہ وہ بھی خلافت میں شریک ہو گیا تو ان بھائی سے ایک بہت ذمہ دار حاکم نے پوچھا کہ معلوم ہوا کہ وہ بھی خلافت میں شریک ہوں گے اس کی کیا اصل ہے ۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ نفی کرتے جو مطابق واقع کے بھی تھی اور حاکم کی خوشنودی کی مؤجب بھی تھی جواب میں یہ کہا کہ ہو گئے ہوں گے ان کی علیحدگی کسی دنیوی مصلحت سے نہیں تھی ، دین کی مصلحت سے تھی اگر دین کی مصلحت شرکت میں سمجھی ہو گی تو شریک ہو گئے ہوں گے وہ مذہبی آدمی ہیں یہ جواب دیا سو وہ مجھ کو کیا ڈراتے ، جب خود ہی نہیں ڈرے اور میں تو کہتا ہوں کہ اپنے ضروری مصالح پر نظر کر کے اگر کوئی خطرات سے احتیاط بھی کر لے اور اہل قدرت سے ڈرے تو وہ ایسا ہے جیسے شیر سے سب ڈرتے ہیں ۔ میرے متعلق یہ کہنا کہ گورنمنٹ سے ڈرتا ہے بھائی میں تو سانپ سے بھی ڈرتا ہوں ، بچھو سے ڈرتا ہوں حتی کہ بھڑ ، مچھر اور پسو سے بھی ڈرتا ہوں جتنی چیزیں موذی ہیں سب س ڈرتا ہوں تو حکام کی ذد سے نہ ڈرنے کے کیا معنی اور یہ تو ایک فطری چیز ہے جو چیزیں ڈرنے کی ہیں ان سے ڈرنا ہی چاہیے اور ہر ڈر نہ نقص ہے اور نہ مذموم بلکہ بعض موقع پر اس کا عکس نقص ہو گا یہ تو عقل کی بات ہے اور عقل کا اقتضاء ہے کہ ہی چیز اپنی حد پر رہے ورنہ بے حس سمجھا جائے گا جیسے ایک شخص تندرست ہے اس کے تو کوئی سوئی چھبو کر دیکھے تو مزا آ جائے اور ایک مفلوج ہے اس کے اگر چاقو بھی جسم میں گھونپ دیا جائے اس کو خبر بھی نہ ہو گی ۔ اب آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ اس میں بہادری اور عدم بہادری کی کیا بات ہوئی ۔ ایک میں حس ہے ایک بے حس ہے حضرت امور طبعیہ فطریہ وہ چیزیں ہیں کہ انبیاء علیہم السلام جو سب سے زیادہ قوی القلب تھے ان پر بھی ان کا اثر ہوتا تھا ۔ قرآن پاک میں متعدد جگہ حق تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعات کو ارشاد فرمایا ہے ان میں صریح دلالت ہے کہ ایسی چیزوں سے انبیاء علیہم السلام بھی متاثر ہوتے تھے میں ان واقعات کو عرض کرتا ہوں ۔ حق تعالی فرماتے ہیں موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے :
اذھبا الی فرعون انہ طغی فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی
دونوں عرض کرتے ہیں : ” قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی ” اس پر حق تعالی فرماتے ہیں : ” قالا لا تخافا اننی معکما اسمع و اری ” اور سنئے موسی علیہ السلام اژدھا سے طبعا ڈرے یہ واقعہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے حق تعالی فرماتے ہیں :
و الق عصاک فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا و لم یعقب یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون اور حق تعالی فرماتے ہیں : ” یموسی اقبل و لا تخف انک من الامنین ”
ایک اور واقعہ قرآن پاک میں مذکور ہے جب موسی علیہ السلام حکم خداوندی سے عصا کو زمین پر ڈالتے ہیں تو وہ دوڑتا ہوا سانپ بن جاتا ہے اس پر حکم ہوتا ہے :
خذھا و لا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولی
پکڑو ، ڈرو نہیں اور ایک واقعہ مذکور ہے کہ جب جادوگروں نے اپنا جادو شروع کیا اور سانپ بننے شروع ہوئے تو موسی علیہ السلام کے دل میں خوف کے آثار پیدا ہونے لگے ۔ خواہ خوف کا سبب کچھ ہی ہو جس کو حق تعالی فرماتے ہیں :
فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی قلنا لا تخف انک انت الاعلی
غرض جو چیزیں ڈرنے کی ہیں ان سے ڈرو اور جو نہ ڈرنے کی ہیں ان سے مت ڈرو اور بالکل خوف نہ ہونا نقص ہے ، فطری کمی ہے ، کمال یہی ہے کہ خوف بھی ہو اور قوت بھی ہو اور امور طبعیہ کا اثر ہونے میں بڑی حکمتیں ہیں ، سب میں بڑی حکمت تو یہ ہے کہ انسان کو اپنا عجز اور ضعف معلوم ہو کر شان عبدیت کا استحضار رہتا ہے جو روح ہے تمام مجاہدات اور ریاضات کی ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ زمانہ غدر میں شریک جنگ ہوئے ۔ اول مرتبہ جو بندوق چلی ثقات نے بیان کیا کہ بیہوش ہو گئے ، اس کے بعد تلوار لے کر خود لڑے ، سو یہ کوئی نقص کی بات نہیں ، طبعی بات ہے عقلی بات جو تھی وہ یہ کہ جنگ میں شرکت کی ، اس میں خوف نہیں ہوا ، دوسری مثال سنئے مثلا حکم ہے کہ طاعون سے بھاگنا جائز نہیں ، آگے دو صورتیں ہیں ایک تو طبعی خوف ہے اس سے اگر وحشت دہشت کے زوال کی تدابیر کرے یا مبتلاء ہو کر علاج کرے جائز ہے بلکہ علاج کرنا ضروری ہے دوسرا عقلی خوف ہے وہ مذموم ہے کہ وہاں سے بھاگے امور طبعیہ کے وجود و عدم کا مدار ایمان یا کفر پر نہیں اس میں سب شریک ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص کہنے لگے کہ میں شیر سے نہیں ڈرتا تو یہ کوئی بہادری کی شرط نہیں ، بہادری یہی ہے کہ گو ڈرے بھی مگر جب موقع آ جائے تو مقابلہ کرے ، ساتھ ہی بچنے کی تدبیر کرے اور اگر عدم خوف مطلقا کمال ہے تو اگر کوئی کہنے لگے کہ میں خدا سے نہیں ڈرتا تو کیا یہ عقل کی بات ہو گی یا بیوقوفی کی ظاہر ہے کہ محض بے وقوفی ہے جیسے ایک بہادر قوم کے ایک بزرگ جنگل میں رہا کرتے تھے ۔ کچھ لوگ زیارت کو گئے ان میں سے ایک نے کہا جنگل میں رہتے ہیں شیر بھیڑیوں سے ضرور ڈر لگتا ہو گا ، وہ بزرگ جواب میں فرماتے ہیں کہ شیر بھیڑیوں سے تو میں کیا ڈرتا ، میں خدا سے تو ڈرتا نہیں ۔ ایک اور اسی قوم کے ایک بزرگ کی حکایت ہے ان کے معتقد ان کی تعریف کر رہے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا یا تو وہ اس قوم کے نہ ہوں گے یا بزرگ نہ ہوں گے ۔ معتقد نے کہا ان میں دونوں وصف جمع ہیں اس نے کہا چلو امتحان کریں چنانچہ وہاں پہنچے جا کر ادب سے سلام کیا ، مصافحہ کیا ، بیٹھ گئے ، وہ غیر معتقد شخص بولا کہ دو تین روز ہوئے ایک عجیب واقعہ ہوا ، کسی جولاہا سے اس قوم کے ایک شخص کی لرائی ہو گئی ، جولاہا نے اس شخص کو خوب پیٹا یہ کہنا تھا کہ وہ بزرگ بگڑ گئے اور غصہ میں فرمایا کہ سسرا وہ شخص اس قوم کا نہ ہو گا جو جولاہا کے ہاتھ پٹ گیا ، بھلے مانس نے ظالم غیر ظالم کا بھی سوال نہ کیا ، علی الاطلاق حکم لگا دیا تو صاحب اگر یہی بہادری ہے تو اللہ تعالی ایسی بہادری سے پناہ دے ، غرض ہر شے اپنے محل پر محمود ہوتی ہے ، بہادری بھی احتیاط بھی خوف بھی عدم خوف بھی تو ہر جگہ یہ الزام دینا کہ فلاں شخص ڈر گیا ، محض بے اصول الزام ہے حقیقت کو سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔