( ملفوظ 245 )مورثی پیر اور حضرت رائے پوری

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جہل سے بھی خدا ہی بچائے ، بہت ہی بری چیز ہے اور ان جاہل پیروں کی بدولت طریق تصوف کی تو وہ گت بنی ہے کہ بیان سے باہر ہے ۔ ایک گاؤں کے کچھ گوجر لوگ حضرت مولانا رائے پوری رحمہ اللہ سے بیعت ہو گئے ، کچھ روز کے بعد اس گاؤں کا مورثی پیر آیا اس نے سنا کہ فلاں فلاں لوگ مولانا سے بیعت ہو گئے ، بھڑک اٹھا اور کہنے لگا ارے بیوقوفو ! رانگھڑ راجپوت بھی کہیں بزرگ ہوئے ہیں ۔ ایک گاؤں والا بولا تھا ہوشیار اجی یہ تو تم ہی جانتے ہو مگر ایک بات کی تو ہمیں بھی خبر ہے ، مولانا نے یہ کہہ دیا ہے کہ اپنے پرانے پیر کے بھی حق حقوق دیتے رہنا تو فورا کہتا ہے کہ خیر کچھ ڈر نہیں ان سے مرید ہو گئے وہ بھی بزرگ آدمی ہیں اچھے آدمی ہیں یہ پیر رہ گئے ۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ہماری آمدنی میں فرق آئے تو نہ وہ بزرگ نہ عالم نہ نیک اور اگر آمدنی میں فرق نہ آئے تو پھر وہ سب کچھ ہیں ان ظالموں نے گمراہ کر دیا مخلوق کو ۔