حدیث جبرئیلؑ کا ایک جملہ فرمایا ! حدیث جبرئیلؑ جو مشکوۃ میں ہے عجبنالہ یسالہ و یصدقہ اس میں شبہ یہ ہے کہ استاذ رات دن شاگردوں کے سوال پر تقریر کرتا ہے اور شاگرد بجا وغیرہ کہتا ہے تو اس اجتماع میں تعجب کی کیا بات ہے جواب یہ ہے کہ لہجہ کا فرق منشاء ، تعجب کا ہے شاگرد کا بجا کہنا اور لہجہ سے ہے اور استاد کا یہ کہنا کہ ٹھیک ہے اور لہجہ سے یعنی شاگرد کا لہجہ نیاز مندانہ ہوتا ہے اور استاد کا حاکمانہ لہجہ ہوتا ہے تو وہاں حدیث میں لہجہ استادانہ تھا اس لئے تعجب ہوا کہ جب معلوم ہے تو پوچھتے کیوں ہیں ـ
