مثنوی سے استفادہ کا طریقہ فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرے اشکالات باطنی مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ سے حل ہو جاتے ہیں ـ اور حضرت گنگوہیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ایسے اشکالات مکتوبات قدوسیہ سے حل ہوتے ہیں ـ اور اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ تجربہ سے معلوم ہوا کہ مثنوی سے خالی الذہن شخص کا استنباط گمراہی ہے ـ صحیح طریق یہ ہے کہ مسائل دوسری جگہ سے معلوم کر لے پھر اس پر مثنوی کو منطبق کر لے یہ مثنوی دانی کا بڑا کمال ہے اس فائدہ اور اصل کو ہیش نظر رکھو تو فائدہ کامل ہو گا ـ
