( ملفوظ 304 )ہدیہ پیش کرتے وقت کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے

ایک صاحب کے ہدیہ پیش کرنے کے وقت ان کی ایک خاص غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہدیہ پیش کرتے ہیں اور غرض دنیا کی لے کر آتے ہیں ہم کو تو غیرت آتی ہے کہ ہم کو ہدیہ دے کر کوئی دنیا کی خدمت ہم سے لے بلکہ اگر دین کی بھی خدمت لے وہ بھی شان ہدیہ کے خلاف ہے ہدیہ تو بالکل خالص محبت کی بناء پر ہونا چاہیے ۔ حق تعالی فرماتے ہیں :
انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء و لا شکورا
سو دینے والے کو تو یہ حکم ہے کہ اور لینے والے کو حکم ہے : “کافئوہ ”
( یعنی بدلہ دو مکافات کرو 12 ) سو دینے والے کو تو منع کیا گیا ہے مکافات طلب کرنے سے اور لینے والے کو حکم ہے کہ مکافات کرو اور بزرگوں نے تو ہدیہ میں سنت کے موافق یہاں تک احتیاط کی ہے کہ اگر انتظار کے بعد کوئی چیز آئے اس سے بھی انکار کر دیا ہے کہ خلاف سنت ہے محبت تو یہ ہے کہ انتظار کی بھی تکلیف نہ دے اس لیے کہ اگر انتظار ہو گا تو تکلیف ضرور ہو گی یہ ہیں بعض آداب ہدیہ کے جس کی کوئی دینے والا رعایت نہیں کرتا مگر ان کا بھی قصور نہیں آج کل رسمی مشائخ نے اسی قسم کے ڈھونگ بنا رکھے ہیں اور بتا بھی رکھے ہیں جس سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر نہ دیا ناراض ہوں گے کہ اب کہ مرتبہ اس نے کچھ نہیں دیا بڑا نا معقول ہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس انتظار میں بھی تفصیل ہے اگر انتظار ایسا ہے کہ اگر چیز نہ ملی کلفت ہوئی شکایت ہوئی ۔ یہ انتظار تو اشراف ہے اور اس حالت میں لینا خلاف سنت ہے اور اگر تکلیف نہ ہو تو محض خیال اور احتمال ہے اور وسوسہ کا درجہ ہے ایسے وقت میں لے لینا جائز ہے یہ اشراف نہیں ہے ۔