( ملفوظ 303 ) پیر کو لوگ بخشوانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب یہاں پر آئے تھے ، بیعت ہونے کی درخواست کی ، میں نے شرائط بیعت بیان کیے ، کہنے لگے کہ مرید کر کے آپ چھوڑ دیں ، شرطیں پوری کرنے نہ کرنے کا میں ذمہ دار ہوں ، میں نے کہا ایسا چھوڑ دیں جیسے سانڈ کو چھوڑ دیتے ہیں خواہ کسی کے چنے کھائے خواہ چناں کھائے خواہ چنیں کھائے ۔ اس پیری مریدی کو آج کل لوگوں نے ایک مشن بنا رکھا ہے جیسے پارٹی بندی ہوتی ہے اور وہ بھی دین کے واسطے نہیں بلکہ دنیا کے واسطے یہ تو عملی فساد ہے پھر اور اس کے متعلق عقیدہ بھی عوام کا خراب کر رکھا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ پیر بخشوا لیتے ہیں چاہے پیر ہی مارے مارے پھریں کہ میری ہی دستگیری کر لو ، معلوم بھی ہے کہ جہاں سفارش ہو گی ادھر سے اشارہ ہو گا کہ سفارش کر دو ورنہ کیا مجال ہے کسی کی اپنی رائے سے سفارش کر سکے ۔