ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے زمانہ میں مدرسہ دارالعلوم میں ایک سوال آیا وہ حضرت نے میرے سپرد فرمایا کہ اس کا جواب لکھ دو ، میں نے جواب لکھ دیا ، وہاں سے اس پر کچھ اشکال لکھا ہوا آیا ، میں نے پیش کیا تو فرمایا کہ لکھ دو کہ ہم مرغان جنگی نہیں یہ ہمارا تبرع اور احسان تھا کہ وقت نکال کر جواب لکھ دیا اگر آپ کو ہمارے جواب سے شفا نہیں ہوتی تو ” فوق کل ذی علم علیم ” اور کسی سے تحقیق کر لو ۔
میں نے عرض کیا کہ حضرت جواب تو ہونا چاہیے فرمایا نہیں جی چنانچہ اسی پر عمل کیا گیا بعد میں اسی کا مصلحت ہونا معلوم ہوا تو غرض ہم کو بچپن سے یہی تعلیم کی گئی ہے اور یہی پسند ہے مگر افسوس ہے آج کل تو یہ بات خواص میں بھی نہیں دیکھی جاتی ۔ الا نادرا اور وہ بھی محض اس خیال سے کہ لوگ سمجھیں گے کہ انہیں کچھ آتا جاتا نہیں ، کیا واہیات خیال ہے ، علماء کو تو اسے لغو خیال سے اجتناب چاہیے ان کی تو شان یہ ہونا چاہیے :
دلفریبان نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خداداد آمد
حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر مناظرہ کرنے کے وقت خاموش ہو جائے ایسی حالت میں کہ وہ حق پر تھا مگر جدال سے نفرت کی وجہ سے خاموش ہو گیا ، اس کا مکان وسط جنت میں بنے گا اور جو اس حالت میں خاموش ہو گیا کہ وہ باطل پر تھا تو اس کا مکان جنت کے کنارے پر بنے گا ۔ ایک عام خرابی جہلاء میں یہ ہو رہی ہے کہ احکام کے دلائل پوچھتے ہیں اور علماء میں یہ خرابی ہے کہ ان کو دلیل بتلاتے ہیں ۔ ایک بزرگ ایسے موقع پر عجیب جواب دیا کرتے تھے جہاں کسی نے مسئلہ کی دلیل پوچھی تو فرماتے کہ بھائی ہمارا باپ دادا تو شروع ہی سے مسلمان چلے آ رہے ہیں ، یہ نو مسلموں سے پوچھو کہ یہ مسئلہ تم نے کہاں سے سمجھا ، باقی ہمیں اس کی ضرورت نہیں ، دوسرے یہ کہ ہمارے باپ نے عمل کے لیے پڑھایا ، لڑنے کے واسطے نہیں پڑھایا تھا کیسی کام کی بات ہے ۔
