( ملفوظ 102)ہم تو عاشق احسانی ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ عاشق کی دود قسمیں ہیں عاشق ذاتی اور عاشق احسانی تو ہم عاشق احسانی ہیں ( عاشق ذاتی یعنی ذات حق کا عاشق اور عاشق احسانی یعنی جو انعامات الہیہ کی وجہ سے عاشق ہو) سبحان اللہ کیا
ٹھیک بات فرمائی اگر ہم کو کوئی تکلیف نہ ہو اور نعمتیں فائض ہوتی رہیں تو زہد بھی ہے اور توکل بھی ہے تہجد بھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ المشائخ ہیں اور جہاں کوئی تکلیف یا راحت میں کمی ہوئی سب ختم جیسے ایک ظریف شاعر نے ایک طوطے کی تاریخ موت لکھی ہے :
میاں مٹھو جو ذاکر حق تھے رات دن ذکر حق رٹا کرتے

گربہ موت نے جو آ دابا کچھ نہ بولے سوائے ٹے ٹے ٹے

پس ہم اطمینان میں ذاکر اور مصیبت میں اصلی بولی پر آ جاتے ہیں ۔ اسی طوطے کے مشابہ ہیں ۔