ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری جو لوگوں سے لڑائی ہوتی ہے کہ کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ مہذب فوجداری نہ ہو تو اس کی اصلی وجہ صرف یہی ہے کہ میری نظر تو کوتاہی کی اصل منشاء پر پہنچ جاتی ہے اور منشاء سخت ہوتا ہے پس مجھ پر زیادہ تر اثر ان مناشی کا ہوتا ہے ناشی کا نہیں ہوتا جس پر دوسروں کی نظر پڑتی ہے اور وہ خفیف چیز ہوتی ہے مثلا ناشی کیا ہے کہ ناتمام یا بے تحقیق بات کہہ دی جس سے دوسرے کو غلط فہمی اور اذیت ہوئی تو یہ اپنی ذات میں معمولی بات ہے لیکن اس کا منشاء ہے بے فکری اور وہ جرم عظیم ہے اس لیے لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ذرا سی بات پر غصہ آ گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی بات پر غصہ آیا پھر باوجود اس کے جرم عظیم ہونے کے اگر کسی کا فہم صحیح ہے
جس سے امید ہوتی ہے کہ قصد اصلاح کے بعد اصلاح کر سکے گا تب تو اس کی اصلاحی خدمت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ گو اس میں بے فکری ہے لیکن چونکہ فہم درست ہے اس لیے اس کی اصلاح اس طرح ہو سکتی ہے کہ ذرا توجہ کرے گا تو یہ مرض بے فکری کا جاتا رہے گا اور اگر بے فکری کے ساتھ بدفہمی بھی ہے تو اس کا علاج میری طبیعت پر بوجہ عدم مناسبت بہت گراں ہے میں ایسے شخص کو کہہ دیتا ہوں کہ تم کو مجھ سے مناسبت نہ ہو گی کسی دوسرے سے رجوع کرو اگر تم چاہو گے تو کسی مصلح کا پتہ بتلا دوں گا کیونکہ اس طریق میں بڑی شرط نفع کی مناسبت ہے جب یہ نہیں تو لوگوں کو جمع کرنے سے کیا فائدہ مجھ کو کوئی فوج تھوڑی ہی بھرتی کرنا ہے اور بعض مصلحین ایسے مزاج کے ہوتے ہیں کہ ان کو ایسے امور سے تنگی نہیں ہوتی وہ اس کی اصلاح کر سکتے ہیں کہ وہاں مانع نہیں یعنی عدم مناسبت ۔
