ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تھا کہ جو کتے پلے ہوئے ہیں کھتی وغیرہ کے واسطے ان کے علاوہ اور سب کو مار دیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو بادشاہی بھی کرتے تھے مال و جاہ کے اعتبار سے مسکین نہ تھے البتہ مزاج کے اعتبار سے اخلاق کے اعتبار سے مسکین تھے ۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ و سلم شجاع بھی ایسے ہی تھے ایک مرتبہ رکانہ پہلوان نے جو تنہا ایک ہزار آدمیوں کے مقابل سمجھا جاتا تھا آ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے پچھاڑ دیں تو میں ایمان لے آؤں گا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا آؤ وہ آیا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اٹھا کر پھینک دیا اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجھے دوسری مرتبہ پچھاڑئیے ، فرمایا بہت اچھا پھر دوبارہ اٹھا کر پھینک دیا ، یہ شخص ایمان لے آیا ۔ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کسی بات میں بھی کسی جماعت سے شرمندہ نہیں اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جامع کمالات ہیں حسین بھی ایسے ہی شجاع بھی ایسے ہی حسین پر یاد آیا ۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک مرتبہ اس حالت میں دیکھ رہا تھا کہ چاندنی رات تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی موجود تھے اور چاند مقابل پر تھا ، میں ایک نظر چاند پر کرتا اور ایک نظر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم زیادہ حسین معلوم ہوتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا حلیہ ہر ہر اعضاء کا الگ الگ بیان کیا گیا ہے اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نہایت ہی حسین تھے ۔
